Friday, October 7, 2022

روہنگیا مسلمانوں پرظلم جاری، آنگ سانگ سوچی کی نام نہاد جرات مندی بے نقاب، ترکی اور پاکستان کے علاوہ دیگر مسلم ممالک خاموش کیوں؟ 92نیوز کی خصوصی رپورٹ

روہنگیا مسلمانوں پرظلم جاری، آنگ سانگ سوچی کی نام نہاد جرات مندی بے نقاب، ترکی اور پاکستان کے علاوہ دیگر مسلم ممالک خاموش کیوں؟ 92نیوز کی خصوصی رپورٹ
لاہور (92نیوز) موت کیا ہے ؟ روہنگیا مسلمانوں سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔ کیا بنگلا دیش اپنی سرحد ان مسلمانوں کی مدد کے لئے کھول سکتا ہے ؟ ترکی اور پاکستان کے علاوہ دیگر مسلم ممالک خاموش کیوں ہیں؟ برما میں مسلمانوں کے جلتے گھر، آہوں اور سسکیوں میں زندگی اجیرن ہو چکی ہے، موت کیا ہے؟ زندگی سے کسی صورت بھیانک نہیں، برما کے مسلمان وہ ہیں جو موت کا ہر لمحے انتظار کرتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان ملک مدد کرنے کو بھی تیارنہیں۔ پانچ کروڑ کی آبادی کا ملک برما جہاں سرکاری مذہب ہے بدھ مت۔ ایک ایسا ملک جہاں اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا عمل عالمی دباو¿ کے باوجود جاری ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی کچھ آبادی بنگلہ دیش، سعودی عرب اور پاکستان میں بھی رہتی ہے۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کو جبری مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو پراپرٹی خریدنے کا کوئی حق نہیں، تعلیم کی سہولیات میسر نہیں جبکہ بنیادی انسانی حقوق بھی سلب کئے جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی روہنگیا مسلمان ایک عرصے سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش سرکار تمام تر مظالم کے باوجود اپنی سرحد کھولنے کو تیار نہیں، حسینہ واجد برابری کی بات کرتی ہیں مگر روہنگیا مسلمانوں کے نام پر چپ سادھ لیتی ہیں۔ کچھ مسلمان چھپتے چھپاتے کشتیوں اور لانچوں میں بھاگ نکلتے ہیں۔ انڈونیشیا کی سرحد پر پہنچتے ہیں تو حکومت انہیں اپنے ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دیتی، ملائیشیا کی سمندری حدود بھی ان مسلمانوں کےلئے بندہے۔ آنگ سانگ سوچی اصول پرست ہیں لیکن ظلم کے خلاف وہ بھی خاموش ہیں۔ برما کے بدقسمت مسلمان کہتے ہیں کچھ بھی بہتر ہوتا نظر نہیں آرہا، آگ لپکتی رہے گی، انسانیت کے دشمن خون بہاتے رہیں گے، موت بھی پیچھا نہیں چھوڑے گی۔