Thursday, October 6, 2022

روز ویلٹ ہوٹل نیویارک فروخت کر رہے ہیں نہ ہی نجکاری ، حکومت کا عدالت میں بیان

روز ویلٹ ہوٹل نیویارک فروخت کر رہے ہیں نہ ہی نجکاری ، حکومت کا عدالت میں بیان

اسلام آباد ( 92 نیوز)  اسلام آباد ہائیکورٹ میں حکومت نے بیان دیا کہ نیو یارک میں روز ویلٹ ہوٹل فروخت کر رہے ہیں نہ ہی اس کی نجکاری کی جا رہی ہے ۔

امریکہ میں پی آئی اے کے ملکیتی روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری روکنے کی درخواست پر جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے عدالت کو بتایا کہ روز ویلٹ کو نہ فروخت کر رہے ہیں نہ نجکاری کی جارہی ہے، حکومت ایڈوائزر مقرر کر رہی ہے کہ کیسے ہوٹل کو مستقبل میں منافع بخش بنایا جائے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ،فزیبلٹی صرف منافع بخش ہونے کے حوالے سے تیار ہورہی ہے، ہوٹل میں جوائنٹ وینچر تو نہیں ہورہا، ڈپٹی اٹارنی جنرل بولے ایسا کچھ نہیں یہ صرف اخباری خبریں ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ معاون خصوصی ذولفی بخاری اپنے فرنٹ مین کے ذریعے ہوٹل کو لینا چاہتے ہیں، ذولفی بخاری پاکستانی شہری بھی نہیں اور نہ ہی وہ منتخب نمائندے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل بولے زلفی بخاری پاکستانی ہیں لیکن دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیئے کہ تو پھر کیا آپ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا، یہ تو پبلک آفس ہولڈر میں بھی آجاتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ کیا رٹ میں موجود کسی فریق کو تو ہوٹل نہیں دیا جارہا؟، کیا یہاں ٹیلنٹ نہیں کہ غیرملکی اسپیشلسٹ کو ہائر کرکے خدمات لے رہے ہیں؟، ایسے نہ کریں یہ قومی اثاثہ ہے کسی کا ذاتی نہیں، ذاتی انٹرسٹ نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے معاملہ نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں وفاق کے بیان کا ذکر کر دیتے ہیں،مستقبل میں کچھ ایسا ہو تو آپ دوبارہ رٹ دائر کر سکتے ہیں۔