Tuesday, September 27, 2022

رواں برس روپے کی قدر میں کمی ، بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا

رواں برس روپے کی قدر میں کمی ، بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سال 2017 میں پاکستانی روپے کی قدرمیں کمی جب کہ بجٹ خسارے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ ملک پر قرضہ بڑھ گیا اور برآمدات کم ہوئی ہیں ۔ سال 2017 پاکستان کی معاشی بدحالی کی ایک نئی داستان سنا رہا ہے۔ حکومت معیشت سدھارنے کی بجائے سیاسی جھگڑوں میں الجھی رہی ۔
سال 2017 پاکستان کی معیشت پر گراں گزرا ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قمیت اور برآمدات گریں ۔ بیرونی قرضے کا حجم اور بجٹ خسارہ بڑھا ۔ پاکستانی معیشت کی زبوں حالی کی بنیاد میں یہی اعشاریئے کار فرما ہیں۔
بیرونی قرضہ کہاں خرچ کیا گیا کوئی بتانے کو تیارنہیں۔ محصولات میں اضافے کا کوئی منصوبہ چار سال میں سامنے نہیں آسکا۔
پاکستان نے 8 فیصد تک شرح سود پر قرضہ لیا ۔ اس شرح پر سود لینے والا ملک دیوالیہ کہلاتا ہے۔ اگرپاکستان نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا تو عالمی ادارے 2 فیصد کی بجائے 12 فیصد پر قرضہ دیں گے۔
آئی ایم ایف نے تاریخ میں پہلی بار پوچھا ہے کہ قرضہ واپس کرنے کیلئے کیا اقدامات اٹھا رہے ہو۔ جبکہ حکومت کے پاس قرض اتارنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ۔
اگر آئندہ بجٹ 6000 ارب کا بنانا ہے تو 3000 ارب کی محصولات اور 30 ارب ڈالر سالانہ کی برآمدات کا انتظام کرنا پڑے گا جبکہ اسلام آباد کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں۔ کوئی وزیر اور بیوروکریٹ اس پر بات کرنے کو تیار نہیں۔
نواز شریف عدلیہ کیخلاف تحریک چلانے کو اعلان کر رہے ہیں ۔ ریاست معیشت کے بجائے سیاسی جھگڑوں میں الجھی ہوئی ہے۔