Saturday, December 3, 2022

ذوالفقار مرزا کے تھانے پر دھاوا بولنے پر ججز سوموٹو کیوں نہیں لیتے؟ جو شخص اسلحہ کے زور پر دکانیں بند کراتا ہے اسے سکیورٹی کیوں دی جائے: شرجیل میمن

ذوالفقار مرزا کے تھانے پر دھاوا بولنے پر ججز سوموٹو کیوں نہیں لیتے؟ جو شخص اسلحہ کے زور پر دکانیں بند کراتا ہے اسے سکیورٹی کیوں دی جائے: شرجیل میمن
کراچی (92نیوز) پیپلزپارٹی سندھ کے مرکزی رہنما اور وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ذوالفقار مرزا نے جونازیبا الفاظ استعمال کئے ان کی مذمت کرتے ہیں، سیاست میں الفاظ کا چناو بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا ذوالفقار مرزا کی سیاست سیاست نہیں بےہودگی ہے، جو دوست دوستوں کا نہ ہوسکا وہ کسی کا نہیں ہوسکتا، میڈیا کسی کی بھی ذاتیات پر گفتگو کو سنسر کرے۔ انہوں نے کہا ذوالفقار مرزا نے تھانے پر دھاوا بولا ججز سوموٹو کیوں نہیں لیتے، گالی گلوچ اور بدتمیزی کا کلچر ختم ہونا چاہئے، ذوالفقار نے جو زبان استعمال کی اس پر انہیں شرمندگی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک شخص جو اسلحے کے زور پر دکانیں بندکراتا ہے اسے پرائیویٹ سکیورٹی کیوں دی جائے، پولیس والوں سے زبردستی اور بدتمیزی کےلئے بھی قانون موجود ہے، پرائیویٹ سکیورٹی اپنے دفاع کے لیے ہوتی ہے ، پیمرا سے گزارش کرتا ہوں کہ کسی بھی رکن اور قیادت پر کیچڑ اچھالنے والے الفاظ نشر نہ کئے جائیں، اگر آپ کسی پولیس اہلکار کا بٹن بھی توڑیں تو اس کے لیے قانون ہے، پوری دنیا نے ذوالفقار مرزا کا عمل دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کسی کی کردار کشی نہیں کی جانی چاہیے ، ذوالفقار مرزا سب کچھ ذاتی مفاد کے لیے کر رہے ہیں ، مجھے نہیں پتا ذوالفقارمرزا کے پیچھے کون ہے۔