Sunday, December 4, 2022

دیر بالا کے 33 بیسک ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹر موجود ہی نہیں ‏

دیر بالا کے 33 بیسک ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹر موجود ہی نہیں ‏
دیر بالا (92 نیوز)خیبر پختونخوا حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے تو کر رہی ہے مگر صوبے کے اکثر اضلاع میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ دیر بالا کے 33 بیسک ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹر موجود ہی نہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں بھی سہولیات کا فقدان ہے۔ دیر بالا  میں 33 بی ایچ یوز تو موجود ہیں مگر صحت کی سہولیات میں حکومت کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ ان  بی ایچ یوز میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ، ہسپتالوں میں پڑی مشینری پڑی پڑی زنگ آلود ہونے لگی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ مریضوں نے ان  ہسپتالوں سے منہ موڑ لیا ہے اور وہ دور دراز سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال جانے پر مجبور ہیں، بات یہیں ختم نہیں ہوتی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال  کا بھی یہ حالت ہے کہ وارڈز تو موجود ہیں مگر 15سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی پڑی ہیں ، یہاں نہ تو کوئی گائنا کالوجسٹ ہے اور نہ ہی ای این ٹی اور آئی سپیشلسٹ موجود ہے۔ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ انفرا سٹرکچر میں کوئی کمی نہیں کمی ہے تو افرادی قوت کی ہے  جس کا اثر براہ راست مریضوں پر پڑ رہا ہے۔ اگر حکومت بی ایچ یوز اور ضلعی اسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا کر ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرے تو بڑے اور تدریسی یسپتالوں پر مریضوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔