Saturday, October 1, 2022

دھرنا ختم نہ کرانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا اظہار برہمی

دھرنا ختم نہ کرانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا اظہار برہمی

 اسلام آباد (92 نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں دھرنا کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی وزیر داخلہ پر سخت برہم ہو گئے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ذلیل کروا دیا۔ آپریشن نا کام ہونے کی وجوہات بتائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا نہیں بلکہ دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا۔
اس پر وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ جو کیا ملک کے مفاد کی خاطر کیا۔ امید ہے معاملے کو جلد حل کر لیا جائے گا۔
جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے کہا کہ آپ کی امید کےتو 9 ماہ پورے ہی نہیں ہو رہے۔ آپ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ذلیل کروا دیا ہے۔ اس پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے تو ذلیل نہیں کروایا۔
اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدالت نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ معاہدہ کریں، صرف یہ حکم دیا تھا کہ فیض آباد انٹرچینج خالی کرائیں جس پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں خانہ جنگی کی صور تحال تھی۔ خود میرے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جو اس کو مارے گا اسے انعام ملے گا۔ جو کیا ملک کے مفاد کی خاطر کیا۔
عدالت نے معاہدہ پڑھ کر سنانے کا کہا جس پر چیف کمشنر نے معاہدے کا متن پڑھ کر سنایا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کیا دھرنے والوں نے معافی مانگی؟؟ یہ کیسا معاہدہ ہے؟؟ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں بھی باتیں کی گئیں، میں نے آئین کے مطابق حکم جاری کیا اور اس پر قائم ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ میری جان کو بھی خطرہ ہے۔ الحمداللہ! میں عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔