Saturday, December 3, 2022

دماغی طور پر مردہ امریکی خاتون نے بچے کو جنم دے دیا

دماغی طور پر مردہ امریکی خاتون نے بچے کو جنم دے دیا
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ میں دماغی طور پر مردہ ایک خاتون نے زندہ بچے کو جنم دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی خاتون کارلا بچپن سے جوڑوں کے درد کی مریضہ تھی۔ کسی بھی پیچیدگی سے بچنے کیلئے ڈاکٹروں نے اسے بچوں کے پیدائش بارے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا تھا مگر 3سال قبل کارلا نے ایک صحت مند بچی کو جنم دیا۔ رواں سال فروری میں ایک دن وہ اچانک اپنے گھر میں چکرا کر گر پڑیں۔ اس وقت کارلا 22ہفتوں کی حاملہ تھی۔ گرنے کے باعث ان کے سر پر شدید چوٹ آئی جس کے باعث انہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ کارلا کو برین ہیمبرج ہو گیا ہے اور ان کے دماغ سے خون بھی بہہ رہا ہے۔ بعدازاں ڈاکٹروں نے کارلا کی دماغی موت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں اور ہسپتال کے طبی عملہ نے ایک اہم اقدام اٹھایا۔ انہوں نے کارلا کے پیٹ میں موجود بچے کو بچانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہسپتال کے طبی عملے نے طے کیا کہ خاتون کے ہاں 32 ہفتوں میں ڈلیوری کرائی جائے گی اور بچے کو زندہ رکھنے کےلئے چوبیس گھنٹوں کی دیکھ بھال کا عمل شروع کر دیا گیا۔ اس دوران ہسپتال کے طبی عملے کے 100 سے زائد ڈاکٹروں، نرسوں اور سٹاف کی طرف سے حاملہ خاتون کو 54 روز کی زندگی دینے کےلئے سر توڑ کوششیں کی گئیں تاکہ بچے کی پیدائش کی جاسکے۔ خاتون کے بچے کی زندگی بچانے کےلئے ڈاکٹروں نے انہیں دو ماہ تک مصنوعی نظام تنفس کے ذریعے زندہ رکھا۔ بالآخر امریکی ریاست نبراسکا کے میتھوڈسٹ ہسپتال میں بچے کی ولادت بذریعہ آپریشن عمل میں لائی گئی۔ بچے کی پیدا ئش کے وقت اس کا وزن تقریباً تین اونس سے کم تھا، نوزائیدہ بچہ کا نام اینجل رکھا گیا ہے۔ نوزائیدہ اینجل پیریز 30 ہفتوں تک مردہ ماں کے رحم میں رہا۔ بچے کی پیدائش کے دو روز بعد ڈاکٹروں نے 22 سالہ کارلا پیریز کی طبی موت کا اعلان کر دیا۔ میل آن لائن اخبار کے مطابق اینجل کی حالت مستحکم ہے اسے دو ماہ تک نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا اور منگل کے روز بچے کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ بچے کا وزن اب تقریباً سات پونڈ ہوگیا اور اسے اپنی نانی کے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔