Friday, September 30, 2022

دلتوں کا مندر گرائے جانے پر نئی دہلی میں احتجاج

دلتوں کا مندر گرائے جانے پر نئی دہلی میں احتجاج
نئی دہلی ( 92 نیوز) بھارت میں کوئی بھی اقلیتی املاک شرپسند ہندوؤں سے محفوظ نہ رہیں بابری مسجد کی شہادت کے بعد  نئی دہلی میں نچلی ذات کے ہندو دلتوں کا  کا مندر گرا دیا گیا ،  دلتوں کی جانب سے  احتجاج شدت اختیار کرگیا تو پولیس نے 91 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ انتہاپسند مودی کے تنگ نظر بھارت میں  اقلیتیں محفوظ ہیں نہ نچلی ذات کے ہندو، پہلے مسلمانوں کی سیکڑوں سال قدیم بابری مسجد کو شہید کیا ، اب نئی دہلی  میں   دلتوں کا چھ سال پرانا رویداس مندر ڈھادیا۔ بدترین ظلم سے تنگ ہزاروں دلتوں نے بھارتی دارالحکومت کا رخ کرلیا ۔ نئی دہلی کی سڑکیں پنجاب، راجستھان، ہریانہ اور اترپردیش سمیت ملک بھر  سےآئی اقلیتوں کا احتجاجی مرکز بن گئی ہیں۔ مظاہرین مندر کی دوبارہ تعمیر کیلئے اراضی کا مطالبہ کررہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی دوہری پالیسی ہے ، وہ رام مندر تو بنانے کی بات کرتی ہے مگر ہمارے مندر گرا رہی ہے ، مودی ہمیں ہندو ہی نہیں مانتے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں ، جن میں پچیس افراد زخمی ہوئے،، اس دوران مشتعل افراد نے ٹائروں کو آگ لگا کر سڑکیں بلاک کردیں۔

بابری مسجد کی شہادت کو 26 سال بیت گئے

پولیس نے توڑ پھوڑ کے الزامات میں 90 سے زائد مظاہرین کو گرفتار  کر لیا ہے ، جن میں دلت رہنما چندر شیکھر آزاد بھی شامل ہیں۔ بھارت میں جاری اقلیتوں پر اس ظلم و ستم کو بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے بہت پہلے ہی آشکار کر دیا تھا۔ اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے نئی حکمت عملی بنائی ہے جس کے تحت ہندووں کو اکٹھا اور اقلیتوں کو تقسیم کیا ہے۔

بابری مسجد گرانے والے تاج محل کے بھی پیچھے پڑ گئے

دلت برادری کا مندر سپریم کورٹ کے حکم پر گرایا گیا جس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گذشتہ ہفتے شروع ہوا تھا۔