Saturday, September 24, 2022

دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، اڑتالیس گھنٹے میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزرے گا

دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، اڑتالیس گھنٹے میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزرے گا
 قصور (92 نیوز) دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کی سطح بلند ہونے پر قصور میں مزید تین دیہات کو خالی کرا لیا گیا۔ اڑتالیس گھنٹے کے دوران ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزرے گا۔ دریائے ستلج میں 1988 کے بعد شدید طغیانی آ گئی۔ بھارت کی طرف سے چھوڑے جانے والے سیلابی ریلے نے سیکڑوں افراد کو بے گھر کر دیا۔ مستے کی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ قصور کے 20 دیہات ڈوب چکے ہیں جبکہ مزید تین بستیاں خالی کرا لی گئیں۔ علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی زیرآب آگئیں۔ منچن آباد میں دریائے ستلج سے ملحقہ آبادیاں اور لودھراں میں درجنوں دیہات سیلاب سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ ریسکیو ٹیمیں علاقے میں پہنچ گئیں اور امدادی کیمپ قائم کر دیئے گئے۔ دریائے ستلج میں سیلاب سے متاثر ہونے والے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑے۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈیئر مختار احمد کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے کے حوالے سے آج کا دن خطرناک ہے۔ دریائے ستلج کے ساتھ تمام اضلاع کی انتظامیہ الرٹ ہے۔ پاک فوج کے دستے تمام تیاریاں مکمل کیے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے  ریلیف آپریشن کیلئے اپنا ہیلی کاپٹر مختص کر دیا۔ ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز گل نے بھی قصور میں سیلاب سے متاثرہ  علاقوں کا دورہ کیا۔ دریائے سندھ میں بھی پانی کی سطح  مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ دادو کا کچے کا علاقہ شدید متاثر ہوا، 200 سے زائد دیہات ڈوب گئے۔ متاثرین کی نقل مکانی جاری ہے۔ سکھرمیں بھی کچے کے کئی علاقے زیرآب آگئے۔ دریائے چناب میں بھی پانی کی سطح  میں اضافہ ہوا جس سے 20 دیہات ڈوب گئے اور بڑے پیمانے پر فصلیں بھی زیرآب آگئیں۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کی آمد 89 ہزار 528 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔