Tuesday, September 27, 2022

داعش کو موصل سے نکالنے کیلئے عراقی فوج کی فیصلہ کن لڑائی جاری

داعش کو موصل سے نکالنے کیلئے عراقی فوج کی فیصلہ کن لڑائی جاری
موصل (ویب ڈیسک) عراق میں موصل سے شدت پسند تنظیم داعش کا قبضہ ختم کرانے کے لیے لڑائی جاری ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے عراقی فورسز توقع سے زیادی تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہیں۔ عراقی فورسز نے داعش کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عراقی فوج اور کرد ملیشیا نے موصل سے داعش کا قبضہ ختم کرانے کے لیے بڑی کارروائی شروع کر دی ہے۔ عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے پانچ سال بعد یہ داعش کے خلاف سب سے بڑی کارروائی ہے۔ فوجی آپریشن میں پچاس ہزار عراقی فوجی، کرد ملیشیا کے چالیس ہزار اہلکار، پیرا ملٹری یونٹ کے چودہ ہزار اہلکارحصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کو پانچ سو امریکی فوجیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔ موصل میں سات ہزار کے قریب داعش کے جنگجو موجود ہیں۔ داعش نے عراقی فورسز کی پیش قدمی روکنے کے لیے سڑکوں کے کناروں پر بم نصب کر دیے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں کار بم دھماکوں کے لیے خودکش بمبار بھی پھیلا دیے ہیں۔ امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل سٹیفن جے نے کہا ہے کہ عراقی فوج کی ہرممکن مدد کی جائے گی‘ امریکہ فضائی کارروائی بھی کرے گا جبکہ عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی کا کہنا تھا کہ فتح کا وقت آ گیا ہے، موصل کو داعش سے آزاد کر انے کے لیے کئی مہینے سے منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ فوجی آپریشن کے باعث موصل سے آٹھ لاکھ افراد کی نقل مکانی کا امکان ہے۔ دو ہزار چودہ میں عراق کے مختلف علاقوں پر داعش کے قبضے کے بعد تینتیس لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔