Thursday, September 29, 2022

داعش سے نمٹنے اور شام کو عالمی اتحاد کا حصہ بنانے کیلئے روس سرگرم ہو گیا

داعش سے نمٹنے اور شام کو عالمی اتحاد کا حصہ بنانے کیلئے روس سرگرم ہو گیا
ماسکو (ویب ڈیسک) روس مشرق وسطیٰ کے بحران پر بات چیت کیلئے سرگرم ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی روسی وزیرخارجہ سرگئی لارووف خلیجی ریاستوں کا دورہ کریں گے۔ روسی وزیرخارجہ اپنے اس دورے میں امریکی ہم منصب جان کیری اور سعودی ہم منصب عادل الجبیر کے ساتھ اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا ایجنڈا یہ ہو گا کہ شام کے بحران کا پرامن حل کیسے ممکن ہے اور عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کو کیسے قابو کیا جائے۔ روس کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ حال ہی میں مشرق وسطیٰ سے متعلق اہم مذاکرات کا ایک دور کرچکے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد روس مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنانے بالخصوص داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کےلئے شام کو بھی عالمی اتحاد میں شامل کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ روس کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں داعش سمیت تمام عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کےلئے ایک عالمی اتحاد تشکیل دیا جائے جس میں شام میں صدر بشار الاسد اور ان کی حکومت کے کردار کو تسلیم کیا جائے۔ واضح رہے کہ یہ اعلیٰ سطحی اجلاس قطر میں ہو گا۔ مشرق وسطیٰ کےلئے روس کے خصوصی ایلچی اور نائب وزیرخارجہ میخائل بوگدانوف نے بھی امکان ظاہر کیا ہے کہ ستمبر میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ماسکو شام کے بحران سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد کرکے مسئلے کا کوئی درمیانی حل نکالنے کی کوشش کرے گا۔