Sunday, September 25, 2022

داعش سے تیل نہیں خریدتے‘ الزامات لگانا روسی روایت ہے : ترک صدر

داعش سے تیل نہیں خریدتے‘ الزامات لگانا روسی روایت ہے : ترک صدر
انقرہ (ویب ڈیسک) ترکی اور روس میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔ روس کی جانب سے الزام تراشیوں پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کرارا جواب دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق داعش سے تیل خریدنے کے روسی الزام پر ترک صدر بھڑک اٹھے اور انہوں نے چیلنج کیا ہے کہ ولادی میر پیوٹن اپنے اس الزام کو ثابت بھی کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر روسی اس بہتان کو ثابت کر دے تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ یاد رہے کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ترکی پر الزام لگایا تھا کہ اس نے روسی جنگی طیارے کو شام کی سرحد کے قریب داعش کے ساتھ تیل کی تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے گرایا ہے۔ اردگان کا کہنا ہے کہ بہتان طرازی روس کی روایت ہے جو خاصی پرانی ہو چکی ہے اور اس سب سے اسے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ روس کی جانب سے عائد کی گئی اقتصادی پابندیوں کے جواب میں ان کا ملک تحمل سے کام لے گا۔