Tuesday, February 7, 2023

داتا دربار کے قریب خودکش حملے کا مقدمہ درج

داتا دربار کے قریب خودکش حملے کا مقدمہ درج
 لاہور (92 نیوز) داتا دربار کے قریب خودکش حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ  دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ محبتوں کے مرکز پر سکیورٹی کیلئے کھڑے ایلیٹ فورس کے اہلکار بنے دہشت گرد کے بزدلانہ وار کا نشانہ۔ صبح 8 بجکر 44 منٹ پر امن دشمن نے پولیس موبائل کے قریب پہنچ کر خود کو اڑا دیا۔ 4 ایلیٹ فورس اہلکار،ایک سکیورٹی گارڈ اور 5 شہری شہید ہو گئے۔ حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج 92 نیوز کو مل گئی۔ فوٹیج میں 18 سے 20 سال کے حملہ آور کو ایلیٹ فورس کی گاڑی کے پاس آتے دیکھا جاسکتا ہے۔ سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے حملہ آور کی تصویر بھی سامنے آگئی۔ بمبار کا ہاتھ فنگر پرنٹ کیلئے نادرا کو بھیج دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو بھی بمبار کی فوٹیج دکھا دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ خودکش حملہ آور کے دو سہولت کار بھی تھے۔ ایک نے دوسرے ساتھی کے پاس بھیجا جس نے اشارہ کرکے ٹارگٹ کا بتایا۔ دونوں سہولت کار دھماکے کے فوری بعد وہاں سے نکل گئے۔ دھماکے سے ہرطرف چیخ و پکار مچ گئی۔ عینی شاہدین واقعے کی روداد سناتے ہوئے افسردہ دکھائی دیئے۔ داتا دربار پر دھماکے کے بعد پنجاب سمیت ملک بھر میں درباروں اور اہم مقامات کی سکیورٹی الرٹ کر دی گئی۔ آئی جی پنجاب نے حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ قرار دیا۔ شہید اہلکاروں میں گوجرانوالہ کا ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل، مصطفی آباد قصور کا ہیڈ کانسٹیبل شاہد نذیر،باغبانپورہ لاہور کا کانسٹیبل محمد سلیم اورسرگودھا کا ہیڈ کانسٹیبل گلزارعلی شامل ہیں۔ ادھر دھماکے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی۔ نمازجنازہ میں گورنر، وزیراعلیٰ، کئی وزرا اور آئی جی کی شرکت ہوئی۔ جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے۔ شہدا میں گوجرانوالہ کے رہائشی محمد سہیل، مصطفیٰ آباد قصور کے شاہد نذیر، کوٹ مومن سرگودھا کے گلزار علی اور باغبانپورہ لاہور کے رہائشی محمد سلیم شامل ہیں۔ ہیڈ کانسٹیبل گلزار علی کا کچھ ہی عرصہ قبل لاہور تبادلہ ہوا تھا۔ ۔