Thursday, December 8, 2022

خیبر پختونخوا کی حکومت کے اسلام  آباد میں دھرنے پرسیاسی رہنماؤں کےتاثرات

خیبر پختونخوا کی حکومت کے اسلام  آباد میں دھرنے پرسیاسی رہنماؤں کےتاثرات
اسلام آباد(ویب ڈیسک)پارلیمنٹرین نے کے پی کے اسمبلی کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف وقومی اسمبلی کے سامنے دھرنے کو جمہوری حق قرار دیا ہے لیکن ارکان پارلیمنت کا کہنا ہے قومی مسائل کے حل کے لیےمناسب فورم کا استعمال کیا جاے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق پرویز خٹک کی پارٹی اور اتحادیوں کی طرف سے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دیے جانے والے دھرنے پر مختلف سیاسی رہنماوں نے اپنے اپنےخیالات کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے مناسب فورم پرجانا ضروری ہے لیکن اگر کہیں بات ہی نہ سنی جاے تو احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینٹر لیفٹیننٹ جنرل عبد القیوم نے کہا کہ ملک اس وقت بڑے گھمبیر حالات سے گزر رہا ہے دھرنوں اور احتجاجوں کا متحمل نہیں ہو سکتا،یوسف تالپور کا کہنا تھا کہ وفاق صوبوں کو خودمختاری نہیں دے رہاتحریک انصاف کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ سیینٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ دھرنے صرف ملک میں معاشی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔ ایم کیو ایم نے پی ٹی آئی کے دھرنے کوالزامات کی سیاست قرار دیا۔ کے پی کے اسمبلی کے اراکین جانب سے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنہ حکومت کی یقین دھانی کے بعد ختم ہو گیا لیکن مسائل کےحل کے لیے دونوں فریقوں نے مسائل مل بیٹھ کر  ہی حل کرنے پر اتفاق کیا۔