Wednesday, November 30, 2022

خیبرپختونخوا ملازمین کی مستقلی،عدالت کا تعیناتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کرنے کا حکم

خیبرپختونخوا ملازمین کی مستقلی،عدالت کا تعیناتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کرنے کا حکم
 اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس میں عدالت نے گریڈ 11 اور اوپر کی تعیناتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ درخواست تاخیر سے دائر کرنے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا پر سخت اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دئیے صوبائی حکومت نے عادت بنا لی ہے کہ ہر درخواست دیر سے دائر کرنی ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخطاب کیا اور کہا وزیراعلیٰ کا بیان حلفی جمع کرائیں۔ اب جب بھی تاخیر سے درخواست آئے گی ساتھ وزیر اعلیٰ کا بیان حلفی ہونا چاہیے۔ بیان حلفی ہو گا تو عدالت اپنا حکم دے گی۔ خیبرپختونخواہ کے وکیل نے دلائل دئیے کہ اگر ان ملازمین کو ریگولر کیا تو پھر ایک نیا پنڈورا بکس کھل جائے گا اور ملازمین بھی عدالت آ جائیں گے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ اپنا پنڈورا بکس بند کرنے کیلئے ہمارا پنڈورا بکس کیوں کھول رہے ہیں؟جو باتیں آپ اب کر رہے ہیں فیصلہ آنے سے پہلے ہمیں کیوں نہیں بتائی گئیں؟ آپ ہر چیز عدالت میں جا کر چیلنج کر دیتے ہیں۔ آپ کے پی حکومت کو چلنے کیوں نہیں دیتے؟ اگر کسی کو نوکری چاہیے تو پبلک سروس کمیشن سے آنا ہو گا۔ عدالت نے خیبرپختونخوا میں گریڈ 11 اور اس سے اوپر کی تعیناتیاں صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے چھ ماہ میں کرنے کا حکم دے دیا۔