Sunday, November 27, 2022

خیبرپختونخوا: اسکولوں کی نصابی کتب میں سنگین غلطیوں کا انکشاف

خیبرپختونخوا: اسکولوں کی نصابی کتب میں سنگین غلطیوں کا انکشاف

پشاور (92نیوز) خیبرپختونخوا کے اسکولوں کی نصابی کتب میں سنگین غلطی کے ساتھ ساتھ نظریہ پاکستان اورقائداعظم کو ہی نکال دیا گیا۔ دسویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کی کتاب میں آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور منگلا ڈیم کو بھی مقبوضہ کشمیر میں شامل کرکے متنازعہ قرار دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے اسکولوں کے نصاب میں عجیب وغریب تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی فوٹیج 92 نیوز نے حاصل کر لی ہے۔ تبدیل ہونے والے نصاب میں سب سے بڑی غلطی میٹرک کے مطالعہ پاکستان کی کتاب میں کی گئی ہے۔

اس کتاب کے صفحہ اول پر پاکستان کے نقشے میں آزادکشمیر، گلگت بلتستان، سکردو حتیٰ کہ منگلا ڈیم کو بھی متنازع علاقے میں شامل کیا گیا ہے۔ آٹھویں جماعت کے معاشرتی علوم کی کتاب سے نظریہ پاکستان کا سبق نکال دیا گیا ہے۔ جماعت چہارم کی اردو سے علامہ اقبال، ٹیپو سلطان اور قائداعظم کے اسباق غائب کرکے اس کی جگہ ٹوٹ بٹوٹ کے مرغے، صحت و صفائی اورتصویری کہانی کے اسباق شامل کئے گئے ہیں۔

جماعت پنجم کے معاشرتی علوم کی کتاب سے قومی ہیروز کے اسباق نکال دیے گئے ہیں جس کی جگہ اب کارل مارکس، مارکو پولو، ابن بطوطہ اور واسکوڈے گاما کے اسباق شامل کئے گئے ہیں۔ صرف یہی نہیں آٹھویں جماعت کے لئے تاریخ کی جو نئی کتاب متعارف کرائی گئی ہے اس کی تاریخ میں عجیب وغریب تبدیلیاں کی گئی ہیں اور انگریزوں کی شان میں تعریفوں کے پل باندھ دیے گئے ہیں۔