Sunday, September 25, 2022

خواتین پر تشدد کی اجازت قابل قبول نہیں : فرزانہ باری ،عائشہ گلالئی

خواتین پر تشدد کی اجازت قابل قبول نہیں : فرزانہ باری ،عائشہ گلالئی
لاہور(92نیوز)  معروف  عالم دین مولانا  راغب نعیمی کہتے ہیں کہ  حقوق نسواں بل کے لئے بہت سی مثبت تجاویز پیش کی گئی ہیں لیکن  بحث صرف  تشدد کے معاملے پر ہی کیوں کی جارہی ہے ،انسانی حقوق  کی رہنما فرزانہ باری کہتی ہیں کہ  خواتین پر تشدد  کی اجازت   قابل قبول نہیں  ہے  مسلم لیگ ن کی رہنما عظمی بخاری نے کہا کہ  مولانا شیرانی یہ کیسے بتائیں گے کہ تشدد ہلکا تھا یا زیادہ ،تحریک انصاف کی رہنما  عائشہ گلا لئی نے  کہا کہ  خواتین پر تشدد  کسی صورت جائز نہیں۔ تفصیلات کےمطابق حق نسواں بل کے لئے  اسلامی نظریاتی کونسل  کی  تجاویز پر  سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے  ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے ، معروف عالم دین مولانا راغب نعیمی نے  مجوزہ بل کی  حمایت کرتے ہوئے کہا کی ایک ساتھ  تین طلاقوں کی ممانعت ، ونی اور قرآن سے شادی جیسی  روایات پر پابندی  سے  معاشرے میں بہتری کی راہ ہموار ہوگی۔ انسانی حقوق کی رہنما فرزانہ باری نے کہا  کہ خواتین پر تشدد،  مخلوط تعلیم پر پابندی اور عورت کو زبردستی حجاب کرانے جیسی تجاویز سمجھ سے بالاتر ہیں۔ مسلم لیگ ن کی رہنما  عظمی بخاری نے بھی   خواتین پر تشدد کی   کھل کر مخالفت کی اور   کہا کہ اس سے خواتین کا احترام مجروع ہوگا۔ تحریک انصاف کی  رہنما عائشہ  گلالئی نے کہا کہ حجاب اور پردے کے حوالے سے تمام تجاویز کو غور سے دیکھیں گے لیکن    خواتین  پر تشدد  کسی صورت جائز نہیں۔ سیاسی اور سماجی حلقوں  کی جانب سے زور دیا جارہا ہے کہ  اسلامی نظریاتی کونسل مجوزہ بل میں موجود  چند تجاویز  کا ازسر نو جائزہ لے۔