Monday, December 6, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

خلائی گاڑی کیوریوسٹی کا سرخ سیارے کے رازوں سے پردہ اُٹھانے کا سلسلہ جاری

خلائی گاڑی کیوریوسٹی کا سرخ سیارے کے رازوں سے پردہ اُٹھانے کا سلسلہ جاری
August 2, 2016
لاہور (ویب ڈیسک) انسان مریخ پر کمندیں ڈال چکا ہے۔ امریکی خلائی روبوٹک گاڑی کیوریوسٹی روور اس وقت مریخ پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہے جس نے مختصر وقفے کے بعد پھر ناسا ہیڈ کوارٹرز کو سگنلز بھیجے ہیں۔ خلائی گاڑی کو سرخ سیارے پر معلومات کے حصول کیلئے بھیجا گیا ہے۔ کیوریوسٹی روور خلائی روبوٹک گاڑی ہے۔ یہ گاڑی اگست 2012ءمیں امریکی خلائی ادارے ناساکی جانب سے مریخ پر اترنے کے بعد وہاں کی فضا میں موجود گیسوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ mars rover1 اس خلائی گاڑی کو ایک خاص کیپسول کے ذریعے زمین کے مدار سے باہر مریخ کی طرف بھیجا گیا۔ پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا جس کے بعد کیپسول نے کیوریوسٹی گاڑی کو خود سے الگ کر کے مریخ کی جانب دھکیل دیا اور خود مریخ کے مدار میں جل کر تحلیل ہو گیا۔ خلائی گاڑی کا مریخ کی سطح پر اترنے کا عمل انتہائی پیچیدہ تھا مگر سائنسدانوں کو یہاں بھی کامیابی ملی اور یوں کیوریوسٹی روور کامیابی سے مریخ کی سطح پر گیل نامی گڑھے کے قریب اتر گئی۔ mars rover خلائی روبوٹک گاڑی نے دو روز تک خاموشی اختیار کی۔ اپنے پیرا میٹرز چیک کئے جس کے بعد ناسا ہیڈ کوارٹرز کو سگنل بھیجے جس پر سائنسدان خوشی سے نہال ہو گئے۔ کیوریوسٹی روور نے کامیابی سے اگلا مرحلہ طے کیا اور دو گز تک اپنے خصوصی مدار میں حرکت کی جس کا مطلب تھا کہ خلائی گاڑی سفر اور اپنے ٹاسک پورے کرنے کے لیے تیار ہے۔ کیوریوسٹی نے مختصر وقفہ لیا اور پینا راما تصاویر ارسال کرنا شروع کردیں۔ اس مشن کو خلائی تاریخ کا ایک انتہائی جرات مندانہ مشن قرار دیا جاتا ہے۔ اگراس گاڑی میں نصب ایک مخصوص آلے کی شعاعیں ایک دلچسپ پتھر کو ڈھونڈ لیں گی تو کیوریوسٹی اس پتھر کے قریب ہو جائے گی اور تفصیلی معائنہ کرنے کے لیے دوسرے آلات کا استعمال شروع کر دے گی۔ mars rover4 آلے سے نکلنے والی انفرا ریڈ شعاعیں ہدف پر ایک ملین واٹ توانائی کے ساتھ پڑتی ہیں اور وہ بھی ایک سیکنڈ کے اربویں حصے سے کم وقت کے لیے۔ کیوریوسٹی روور انسانی عقل کی عظمت بیان کر رہی ہے تاہم کائنات کے اربوں راز اب بھی ایسے ہیں جن سے پردہ اٹھنا باقی ہے اور انہیں مسخر کرنے کے لیے انسان کو اربوں صدیاں درکار ہیں۔