Friday, October 7, 2022

خصوصی بچوں کو پاکستان میں عام سہولیات بھی نہیں ملتیں : طبی ماہرین

خصوصی بچوں کو پاکستان میں عام سہولیات بھی نہیں ملتیں : طبی ماہرین
لاہور (92نیوز) سڑسٹھ سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں آج بھی ذہنی اور جسمانی معذور افراد کو ان کے جائز حقوق نہیں دئیے جا سکے۔ ماہرین کے مطابق قوانین تو بن گئے مگر ان پر عملدرآمد کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا۔ وزارت سوشل ویلفیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تقریباً ہر گاوں میں دس سے بیس بچے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں۔ ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ادارے پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کچھ سہولتیں میسر ہیں بھی تو وہ صرف بڑے شہروں میں اور وہ بھی کافی حد تک وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ عام تعلیمی ادارے ہوں یا سرکاری نوکریاں دو فیصد کوٹہ مختص ہونے کے باوجود معذوروں کو معاشرتی سطح پر نظراندازکیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کے باعث بھی پاکستان میں معذور افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ، واش رومز، درسگاہوں اور دیگر مقامات پر خصوصی اقدامات تودرکنار انہیں حکومت کی جانب سے چھڑیاں، وہیل چیئرز اور مصنوعی اعضاءتک فراہم نہیں کیے جاتے۔ خصوصی افراد کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہوئے ان سے اظہار یکجہتی کے لیے جگہ جگہ سیمینارزاور کانفرنسز کا انعقاد کرتے ہوئے تجاویز دی جاتی ہیں۔ اگر ان پر عمل بھی کرلیا جاتا تو آج معاشرے میں خصوصی افراد اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ ہوتے۔