Tuesday, December 7, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

خزانہ بھرو تحریک جاری !!! سیلزٹیکس کی بدولت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خاطرخواہ کم نہ ہو سکیں

خزانہ بھرو تحریک جاری !!! سیلزٹیکس کی بدولت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خاطرخواہ کم نہ ہو سکیں
September 2, 2015
اسلام آباد (92نیوز) عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ پاکستان میں ڈیزل پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 45 فیصد، پٹرول پر ساڑھے پچیس فیصد کر دیا گیا۔ ٹیکسز نہ ہوں تو ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 40 روپے فی لیٹر تک آ جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے مالی سال کا دوسرا منی بجٹ جاری کردیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ترین سطح پرپہنچ گئیں۔ ڈیزل پرسیلز ٹیکس کی شرح پینتالیس فیصد کردی گئی۔ اگر یہ ٹیکس نہ ہوتے توپٹرول پچاس اور ڈیزل چالیس روپے فی لٹر ملتا۔ مالی مشکلات سے دوچار وزارت خزانہ کو آمدن بڑھانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ اس قدر ڈالا گیا ہے کہ ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ وزارت خزانہ نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں دوسرا منی بجٹ جاری کردیا ہے۔ ایف بی آر نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح میں ہوشربا اضافہ کردیا ہے۔ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 45 فیصد کردی گئی ہے۔ یکم ستمبر سے پیٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح 20 سے 25.5 فیصد کردی گئی ہے جبکہ ہائی آکٹین پر سیلز ٹیکس کی شرح17سے 24فیصد کردی گئی ہے۔ مٹی کے تیل پرسیلز ٹیکس کی شرح 20 سے 30فیصد اور لائٹ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 29.5 فیصد کردی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسز ختم کرنے سے پیٹرول 50 روپے فی لیٹر، ڈیزل 40 اور مٹی کا تیل 30 سے 35 روپے فی لیٹر تک مل سکتا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 63 فیصد اضاہ کیا گیا ہے جسکے تحت گھریلو صنعتی اور کمشرل صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا ہے جسکے بعد مہنگائی کا ایک طوفان عوام کا منتظر ہے۔ عوام نے حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناانصافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز لگانے کی بجائے عالمی منڈی کے مطابق انہیں ریلیف فراہم کرے۔