Saturday, December 10, 2022

خدمات کے 17 شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ

خدمات کے 17 شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ
اسلام آباد ( 92 نیوز) ٹیکس ہدف پوراکرنےکیلئے خدمات کے 17 شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ  کر لیا گیا ،  16 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد ہوگا،پرپراٹی ڈیلرز، بھٹہ مالکان، آڈیٹر، اکاؤنٹنٹس سمیت  کچرا اکٹھا کرنے کی خدمات ،انٹرسٹی ٹرانسپورٹ اور لینٹر کا مصالحہ تیار کرنے والی کمپنیوں پر ٹیکس عائد ہوگا۔ پانچ ہزار 500 ارب کا ٹیکس ہدف کیسے مکمل ہو گا، ایف بی آر افسران سر جوڑ کر بیٹھ گئے ،خدمات کے 17 شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرلیا، 16 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔ ویب سائٹ، انٹرنیٹ پر اشتہارات کی خدمات فراہم کرنے ، ہورڈنگ بورڈ، سائن بورڈ فراہم کرنے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ لینڈ اسکیپنگ کی خدمات فراہم کرنے سیاحتی، تعلیمی اور دیگر مقاصد کیلئے سپانسرشپ کی خدمات پر بھی ٹیکس عائد ہوگا ، پراپرٹی ڈیلروں کو بھی 16 فیصد جنرل سیلز ٹیکس دینا ہوگا ۔ پبلک ریلیشن کمپنیوں، ٹریننگ، کوچنگ اور دیگر تعلیمی تربیتی خدمات کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائیگا ، حکومت نے بھٹہ مالکان کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرلیا ، علاقے کے لحاظ سے ٹیکس لیا جائیگا۔ ویزہ کنسلٹنی کی خدمات ، صنعتی شعبے کی تقسیم کار کمپنیوں، سٹاک مارکیٹ کے بروکرز، منی چینجرز ، سروئیرز کے شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائیگا۔ آڈٹ  اور اکاؤنٹینٹ فرموں پر بھی ٹیکس عائد ہوگا جبکہ آوٹ ڈور فوٹو گرافی، ایوینٹ پلاننگ، ویڈیو گرافی، آرٹس اور پینٹنگز اور نیلامی پر بھی ٹیکس دینا ہوگا۔