Friday, September 30, 2022

خبردار ھوشیار! شوہر اب عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا

خبردار ھوشیار! شوہر اب عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا

اسلام آباد (92 نیوز) – اسلامی نظریاتی کونسل نے مجوزہ ماڈل تحفظ حقوق نسواں بل تیار کرلیا جس میں کہا گیا ہے کہ شوہر عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا، پرائمری کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی۔ جہیز کے مطالبہ اور نمائش پر پابندی ہوگی بیک وقت تین طلاقیں دینا قابل تعزیرہوگا۔

مجوزہ بل میں کہا گیا ہے عورت کو شریعت کے فراہم کردہ تمام حقو ق حاصل ہونگے۔ عورت کے زبردستی تبدیلی مذہب کرانے پر تین سال سزا ہوگی۔ اسلام یا کوئی اورمذہب چھوڑنے پر عورت قتل نہیں کی جائے گی، معاشرتی بگاڑ سے متعلق اشتہارات میں عورت کے کام کرنے پرپابندی ہوگی، تیزاب گردی یا کسی حادثے سے عورت کی موت کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔

عورت سے زبردستی مشقت لینے پر مکمل پابند ہوگی، حمل کے 120 دن بعد اسقاط کو قتل گردانہ جائے گا، باشعور لڑکی کو قبول اسلام کا حق حاصل ہوگا، دوران جنگ عورت کو قتل کرنے کا حق نہیں ہوگا، عورتوں کےغیرمحرموں کے ساتھ تفریح دوروں، آزادانہ میل جول پر پابندی ہوگی۔

عورت کی قرآن پاک سے شادی جرم ہوگا، مرتکب افراد کو دس سال سزا دی جائیگی۔ جہیز کے مطالبہ اور نمائش پر پابندی ہوگی۔ تادیب کے لئے شوہر عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا۔

تادیب سے تجاوزپر عورت شوہر کے خلاف کاروائی کیلئے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔ عورتوں کو سیاسی عمل میں حصہ لینے وصیت کرنے اور جج بننے کا حق حاصل ہوگا۔ عاقلہ، بالغہ لڑکی ازخود نکاح کرسکے گی۔

خاتون نرس سے مردوں کی تیمارداری پر پابندی ہوگی۔ رقص موسیقی ، مجسمہ سازی کی تعلیم پر پابندی ہوگی۔ پرائمری کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی۔ بیک وقت تین طلاقیں دینا قابل تعزیر ہوگا۔

نان نفقہ نہ دینے کی صورت میں عورت کو خلع لینے کا حق حاصل ہوگا۔ ماں بچے کو دو سال تک دودھ پلانے کی پابند ہوگی۔

مجوزہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مفتی امداد اللہ نے تیارکیا ہے مجوزہ بل پر آج اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس پر غور ہوگا، جس کے بعد کونسل کے چیئرمین حتمی سفارشات سامنے لائینگے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ماڈل بل بناکر سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو بھجوائے گی۔