Saturday, October 1, 2022

حکومت کا بجلی کے شعبے کو ڈی سینٹرلائز کرنے کا فیصلہ

حکومت کا بجلی کے شعبے کو ڈی سینٹرلائز کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (92 نیوز) حکومت نے بجلی کے شعبے کو ڈی سینٹرلائزکرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بڑی تبدیلیوں کا منصوبہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا جس کے تحت تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صوبوں کو منتقل کردیا جائیگا۔ بلوں کی کم وصولی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوگی، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی بجلی فروخت معاہدہ کے تحت تمام کمپنیوں کو بجلی کی فروخت جاری رکھے گی اور وفاق این ایف سی ایوارڈ کے تحت اسکی قیمت حاصل کرے گا۔ پلان کے تحت ہر صوبے اور اسکی تقسیم کار کمپنی کو اضافی بجلی لینے کی اجازت ہوگی۔ کمپنیاں اور صوبائی حکومتیں ائی پی پیز کے ساتھ معاہدہ بھی کرسکیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی چوری کی روک تھام، سپلائی میں بہتری اور لوڈشیڈنگ میں کمی بھی ان ہی کے ذمے ہوگی۔ صوبے کے ماتحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ بجلی فروخت کا معاہدہ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔۔۔ لیکن معاہدہ کے تحت صرف کمپنی کی مینجمنٹ  پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کی جاسکے گی۔ نیپرا پاور سیکٹر کی ریگولیٹ کا کام جاری رکھے گا۔ اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت کے الیکٹرک کے اکثریتی حصص شنگھائی الیکٹرک کو منتقل کرنا بھی پلان کا حصہ ہے۔ پاور ڈویژن نے نیا ٹیرف ماڈل بھی تیار کیا ہے جسے وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے اور اسے حتمی شکل دی جارہی ہے۔ اس کے تحت پیک آورز جن اوقات میں بجلی کے لوڈ زیادہ ہوتے ہیں اور آف پیک آورز کے مختلف نرخوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ صارفین کو اضافی بجلی کی صلاحیت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کیلئے چوبیس گھنٹے کم نرخوں سے لطف اندوز ہونے کی پیش کش کی جائے گی۔ بڑی صنعت کیطرح چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کیلئے مراعات پر مبنی کم قیمت کا پیکج متعارف کرایا جائیگا۔