Friday, October 7, 2022

حکومت نے کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دیدی

حکومت نے کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دیدی
اسلام آباد (92 نیوز) وفاقی حکومت نے فارما کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں میں 7 سے 10 فیصد اضافے کی اجازت دے دی۔ کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو ریٹیل پرائس میں اضافے کے تمام ثبوت ڈریپ میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ ثبوت درست ہونے کی صورت میں 30 دن کے اندر نئی قیمتیں مقرر کرنے کی منظوری دی جائے گی، شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ وفاقی حکومت نے ادویہ ساز کمپنیوں کو کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دے دی۔ ڈرگ ریگولیڑی اتھارٹی کے نوٹیفکیشن کے مطابق ادویہ ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کو بنیادی ادویات کی قیمتوں میں7 فیصد جبکہ دیگر ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کی اجازت ہوگی۔ ادویہ ساز کمپنیاں و امپوپرٹرز دواء کی ریٹیل پرائس میں اضافے کے تمام ثبوت ڈریپ کو فراہم کریں گی اور ایسا نہ کرنے والوں کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈریپ نے وفاقی حکومت و ڈریپ کی پالیسی بورڈ کی منظوری و سفارش پر ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018ء میں ترمیم کی ہے جس کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق ہر سال وزارت قومی صحت کرے گی جبکہ ہارڈ شپ کیسز کیلئے درخواستوں کو 120 یوم کے اندر نمٹایا جائے گا۔ دوسری طرف شہریوں نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو ظلم قرار دے دیا۔ گذشتہ برس بنیادی فارما کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں میں 5 فیصد جبکہ دیگر تمام ادویات کی قیمتوں میں 7.3 فیصد اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔