Tuesday, October 4, 2022

حکومت نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کیلئے 30 ارب سبسڈی دےگی، حفیظ شیخ

حکومت نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کیلئے 30 ارب سبسڈی دےگی، حفیظ شیخ
اسلام آباد (92 نیوز) حکومت کے موثر اقدامات سے ملکی معیشت کو سنبھالا ملا ہے، مجموعی قومی خسارے میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے، حکومت نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے لیے 30 ارب روپے سبسڈی دے گی، وزیرخزانہ حفیظ شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستانی معیشت اور اہداف پر رپورٹ جاری کی اور اطمینان بخش قرار دیا۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھا سٹاک مارکیٹ کچھ عرصہ سے اچھی رفتار سے اوپر جا رہی ہے، سیمنٹ کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، ایکس چینج ریٹ بھی مستحکم ہے، ملکی تجارتی خسارے میں بتدریج کمی ہو رہی ہے۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ملکی برآمدات میں بھی نمایاں بہتری آئی، چار فیصد اضافہ ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ رہے ہیں جبکہ ڈومیسٹک ٹیکس نیٹ میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے، سیمنٹ کی پیداوار 16 ملین ٹن سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملکی قرضوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو قرضہ سابق حکومتوں نے لیا تھا اسے بھی واپس کیا جا رہا ہے، گزشتہ حکومتوں کے قرضے میں سے 2.1 ارب ڈالر واپس کیے گئے، اسٹیٹ بینک سے پچھلے چار ماہ میں ایک روپیہ بھی ادھار نہیں لیا، ملکی معیشت مستحکم سطح پر پہنچتی جا رہی ہے۔ نیا ہاﺅسنگ سکیم کے بارے میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے لیے 30 ارب روپے اضافی مختص کیے ہیں، گھروں کی تعمیر میں حصہ لینے والے اداروں کو بھی چھوٹ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈبینک نے دورہ پاکستان کے دوران اصلاحات کو سراہا ہے جبکہ آئی ایم ایف ٹیم نے پاکستان کے لیے دوسری قسط کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجران سے بہت اچھی ڈیل کی گئی، تاجروں کو مختلف مراعات دینے سے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس سال گروتھ ریٹ کا جو ٹارگٹ رکھا ہے اسے بآسانی حاصل کرلیں گے، گردشی قرضوں کی مد میں 250 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے، برآمد کنندگان کے لیے قرضے کی مد میں 100 ارب روپے اضافی رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر چاروں صوبے بات چیت کر رہے ہیں، موجودہ حکومت نے فاٹا کے لیے بجٹ میں جو رقم رکھی ہے اس کی مثال نہیں ملتی،حکومت نے بجٹ میں فاٹا کے لیے 152 ارب روپے رکھے ہیں، حکومتی اہداف پر گفتگو کرتے ہوئے مزید بولے کہ حکومت کا اس وقت فوکس قیمتوں کو کم کرنے پر ہے، اس کے لیے تین چار چیزوں پر فوکس کیا جارہا ہے، جہاں جس چیز کی قیمت بڑھے گی وہاں اس کی سپلائی میں اضافہ کیا جائے گا، سمگلنگ کو روکا جائے گا، حکومت کوئی ایسی چیز نہیں کرنا چاہ رہی جس سے انتشار پھیلے، حکومت نے اسی لیے اپنے اخراجات کم کئے۔