Tuesday, October 4, 2022

حکومت اور علماء مشائخ کا دھرنے کے پرامن حل کیلئے کمیٹی بنانے پر اتفاق

حکومت اور علماء مشائخ کا دھرنے کے پرامن حل کیلئے کمیٹی بنانے پر اتفاق

اسلام آباد ( 92 نیوز ) فیض آباد میں دھرنے سے متعلق وزارت مذہبی امور میں حکومت اور علما ومشائخ کا اہم ہنگامی اجلاس ہوا ۔ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ۔ جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ شق میں ترمیم کرنے والے افراد کے نام سامنے لائے جائیں ۔ اجلاس میں پیر حسین الدین کی سربراہی میں کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق ہو گیا ۔ وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات بتائے ۔


حکومت اور علماء مشائخ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق غلطی کے ذمہ داروں کا نام سامنے لایا جائے گا جبکہ فریقین سے معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا جائے گا ۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ختم نبوت کے حوالے سے کسی نرمی کی گنجائش نہیں ۔ پاکستان کسی قسم کی بدامنی کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔
وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ قیامت تک ختم نبوت کا قانون مضبوط اور موثر ہے ۔ اس قانون میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ۔
وزارت مذہبی امور میں اجلاس کے بعد وزیرداخلہ احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کسی قسم کی بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا کوشش کر رہے ہیں کہ معاملہ پر امن طریقے سے حل ہو جائے۔ خون خرابا نہیں چاہتے ۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرائیں گے ۔ ختم نبوت کے متعلق قانون مزید مضبوط ہو چکا ۔ ملک کو خلفشار کا شکار کرنے کیلئے سازشیں کی جا رہی ہیں ۔


دوسری طرف پنجاب ہاؤس میں بھی اہم اجلاس ہوا جو کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا ۔ مذاکراتی عمل میں کئی علما بھی شریک ہوئے جبکہ مفتی منیب الرحمان نے شرکت سے معذرت کر لی ۔
اجلاس کے بعد وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے جہاں ایک طرف دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی وہیں واضح کہا کہ زاہد حامد سے استعفی مانگنا درست نہیں ۔
دھرنا وفد میں شامل پیر عنایت الحق نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہیں اب بال حکومت کی کورٹ میں ہے۔