Thursday, October 6, 2022

حکومت اور تاجروں میں مذاکرات کامیاب ، شناختی کارڈ کی شرط 31 جنوری تک موخر

حکومت اور تاجروں میں مذاکرات کامیاب ، شناختی کارڈ کی شرط 31 جنوری تک موخر
اسلام آباد ( 92 نیوز) حکومت اور تاجروں کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ، شناختی کارڈ کی شرط پر عملدرآمد 31 جنوری تک موخر کر دیا گیا ، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے  کے مسائل کے حل کیلئے ایف بی آر میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا اعلان  بھی کر دیا۔ حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ، 11 نکاتی معاہدہ طے پا گیا جس کے مطابق  شناختی کارڈ کی شرط تین ماہ کیلئے موخر، سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلئے بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سالانہ سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے سالانہ ہوگی ۔ خرید و فروخت پر شناختی کارڈ پر شرط کیخلاف  تاجروں کی دو روزہ ملک گیر شٹر ڈاون ہڑتال حکومت کو مذاکرات کی میز پر لے آئی ، وزارت خزانہ میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور مرکزی تنظیم تاجران کے وفد کے درمیان مذاکرات ہوئے جو کامیاب ٹھہرے  اور 11 نکاتی معاہدہ طے پا گیا۔ شناختی کارڈ کے ذریعے خرید وفروخت کی شرط پر کارروائی تین ماہ کیلئے 31 جنوری تک موخر کر دی گئی ، 10 کروڑ تک سالانہ سیلز والے تاجروں کو ود ہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنایا جائے گا ، سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلئے بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سالانہ سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے سالانہ ہوگی۔ معاہدے کے مطابق دس کروڑ تک سالانہ سیل پرٹرن اوور ٹیکس کی شرح کو 1.5% سے کم کرکے 0.5% کر دیا گیا ، ٹریڈرز کے مسائل کے حل کیلئے ایف بی آر اسلام آباد میں خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ نیا رجسٹریشن اور ٹیکس ریٹرن فارم اردو میں مہیا کیا جائے گا ، تاجر نمائندگان کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی ، کم منافع والے ہول سیلرز کیلئے ٹرن اوور کی شرح کو تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے مزید کم کیا جائے گا ۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے واضح کیا کہ جنوری 2020 کے بعد شناختی کارڈ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ تاجروں رہنماوں نے مذاکرات کی کامیابی کے بعد دو روزہ ہڑتال ختم کردی۔