Monday, September 26, 2022

حکومتی پالیسیوں کیخلاف تاجروں کی ملک گیر ہڑتال ، شہر شہر شٹر ڈاؤن

حکومتی پالیسیوں کیخلاف تاجروں کی ملک گیر ہڑتال ، شہر شہر شٹر ڈاؤن
اسلام آباد( 92 نیوز) حکومتی پالیسیوں کے خلاف تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے ، شہر شہر شٹر ڈاؤن  ہیں  جبکہ الیکٹرانکس ، ٹمبر موبائل فون سمیت تمام چھوٹی و بڑی مارکیٹیں بند ہیں ۔ حکومتی پالیسیوں کے خلاف تاجر برادری سراپا احتجاج ہے ۔ تاجروں کی جانب سے حکومت سے متعدد بار نرمی کی درخواست کے بعد  آج شہر شہر شٹر ڈاؤن  ہڑتال کی جا رہی ہے ، الیکٹرانکس ، ٹمبر موبائل فون سمیت تمام چھوٹی و بڑی مارکیٹوں کے تمام شٹر آج بند ہیں ۔

لاہور کی صورتحال

تاجر رہنما نعیم میر اور کاشف چودھری کا کہنا ہے کہ شبر زیدی کی زبانی یقین دہانی قبول نہیں ، تحریری دستاویزات دیں ۔ تاجر رہنماؤں نے مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں ہڑتال  31 اکتوبر تک جاری رکھنے کا عندیہ بھی دے دیا۔

خالد پرویز

صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر 24 گھنٹے میں مطالبات تسلیم نہ کئے تو آئندہ سخت لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ، ہم نے آمروں کے دور میں مہینوں دکانیں بند رکھی تھیں ، اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو کنجیاں حکومت کے حوالے کر دیں گے ۔

پاکستان ٹریڈرز الائنس

پاکستان ٹریڈرز الائنس کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ہڑتال تاجر برادری کے مطابات کیلئے ہے ، اسے  کسی سیاسی تنظیم سے نہ جوڑا جائے ،  میاں محمد علی کا کہنا تھا کہ  تمام پاکستان کی تاجر تنظیموں کی ایک ہی آواز ہے ، 13 جولائی کی ہڑتال کیساتھ ہمارے ساتھ میٹنگ میٹنگ کھیلا گیا ، ہڑتال مسئلے کا حل نہیں ہوتا مگر ہم کو حکومت نے مجبور کیا ہے ۔ میاں محمد علی نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط پر 28 تاریخ تک کا ٹائم مانگا  لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں  دیا گیا ،  دکاندار ایک سال میں 36 ہزار شناختی کارڈز کا ریکارڈ کیسے رکھے ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے نیا پاکستان کا خواب شرمندہ تعمیر ہو اور حکومت 5500ارب کا ٹیکس ٹارگٹ مکمل کرے  لیکن ڈاکو منٹیشن کے نام  پر اوور ڈاکو منٹیشن نہ کی جائے ۔ آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میرگروپ کے ملک امانت کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ہڑتال کامیاب رہی ہے حکومت آئی ایم ایف کے پیچھے لگ کر ملک برباد نہ کرے ۔

فیصل آباد کی صورتحال

ملک گیر ہڑتال کی کال پر فیصل آباد ڈویژن میں تاجروں نے شٹرڈاؤن رکھا ، فیصل آباد میں جامعہ گلی ، مکی مارکیٹ، مندر گلی، گوردوارہ گلی سمیت کپڑے کی ہول سیل مارکیٹس بند رہیں ۔ گرے کلاتھ ، یارن مارکیٹ اور جیولرز مارکیٹ بند رہی اور تاجروں نے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔ شہر کے آٹھ بازاروں میں کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہا ، امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کیلئے پولیس کا فلیگ مارچ کرتی رہی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مکمل اور سرگودھا میں جزوی پڑتال رہی ، لیاقت مارکیٹ، صرافہ بازار، گول چوک، سٹی روڈ، امین بازار میں دکانیں بند رہیں ۔ فیصل بازار، اردور بازار، چوک شربت والا میں بیشتر دکانیں کھلی ہیں۔ خوشاب اور چنیوٹ میں بھی جزوی ہڑتال رہی جبکہ جھنگ ، شور کوٹ اور گوجرہ میں کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہا۔

پشاور کی صورتحال

پشاورمیں تاجروں تنظیموں کی کال پر شہر کی بڑی تجارتی مارکیٹیں شعبہ، خیبر بازار، اشرف روڈ ، قصہ خوانی، چوک یادگار، نمک منڈی، شعبہ بازار میں کاروباری مراکز بند رہے ، تاجروں نے پیپل منڈی چوک میں احتجاجی کیمپ لگایا۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ خریداری کے لئے شناختی کارڈ کی شرط اور ٹیکس میں اضافہ واپس لیا جائے ، تاجروں کے لئے فکس ٹیکس اسکیم دی جائے، 12لاکھ تک آمدن کو ٹیکس سے استثنٰی بحال کیا جائے۔ پشاور صدر میں ہڑتال جزوی رہی جبکہ نوتھیہ اور دیگر بازاروں میں چھوٹے دکانداروں نے ہڑتال میں حصہ نہیں لیا۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہڑتال کل بھی جاری رہی گی، اگر ان کے مطالبات پر ایف بی آر نے کان نہ دھرے تو وہ شٹرڈاؤن ہڑتال کے دورانیہ بڑھادیں گے۔