Monday, November 28, 2022

حمزہ شہباز شریف کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 17 اپریل تک توسیع

حمزہ شہباز شریف کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 17 اپریل تک توسیع

لاہور ( 92 نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی  حمزہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب کو 17 اپریل تک گرفتار کرنے سے روک دیا ، عدالت نے حمزہ شہباز کو ایک کروڑ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور نیب سے درخواست ضمانت پر شق وار جواب مانگ لیا ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

دوران سماعت بنچ نے ن لیگ کے کارکنوں کے شور پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے  اسے غیرمناسب قرار دیا ، حمزہ شہباز شریف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان ہمارے کہنے پر نہیں بلکہ خود آئے ہیں۔

 عدالتی استفسار پر نیب نے بتایا کہ حمزہ شہباز کیخلاف تین کیسز ہیں ، جن میں غیر قانونی اثاثے بنانے، صاف پانی کمپنی اور رمضان شوگر ملز میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں جبکہ غیرقانونی اثاثے بنانے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہیں۔

 حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائیکورٹ کا حکم تھا کہ حمزہ شہباز کو گرفتاری سے دس دن پہلے گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب نے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے متواتر دو دن گرفتاری کیلئے چھاپے مارے ، حمزہ شہباز کو گرفتاری کا خدشہ ہے اس لیے ان کی ضمانت منظور کی جائے۔

نیب کے وکیل نے حمزہ شہباز کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ملزم کو گرفتاری سے پہلے آگاہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ مرحلہ گزر چکا اب درخواست گزار کی درخواست ضمانت دائر ہونے پرنیب اپنا موقف دے۔

 بنچ نے ہدایت کی کہ حمزہ شہباز کی ضمانت کا شق وار اور جامع جواب دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے  درخواست پر مزید کارروائی 17 اپریل تک ملتوی کردی۔

 دوسری جانب پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گیے تھے۔

گزشتہ جمعہ کے روز  نیب لاہورکی ٹیم حمزہ شہباز کی ماڈل ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ پر انہیں گرفتار کرنے پہنچی جہاں حمزہ شہباز کے گارڈز اور ن لیگی کارکنان کے جانب سے شدید مزاحمت کے بعد انہیں واپس جانا پڑا۔

ہفتہ کی صبح ایک مرتبہ پھر نیب ٹیم حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے پہنچی لیکن حمزہ شہباز کے وکلاء خفاظتی ضمانت لینے کے لیے لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے جہاں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم کے اپنے چیمبر میں کیس کی سماعت ہوئی  ،جس  میں  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو 8اپریل تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔