Monday, October 3, 2022

حقِ زندگی سمجھو میرا،، مجھے جینے دو!

حقِ زندگی سمجھو میرا،، مجھے جینے دو!
December 10, 2021 ویب ڈیسک

دن سردیوں کے تھے اور وقت صبح کا، میں سڑک پر تھا اور ہر جانب دھُند چھائی ہوئی تھی، مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی، حالانکہ تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا تھا، لیکن کیا کروں، بچہ ہوں نہ۔ دوڑتے بھاگتے، اچھلتے کُودتے سب ہضم ہوجاتا ہے، مجھے دُور سے آتی بڑی، بڑی تیز رفتا ر گاڑیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں لیکن پھر بھی میں سڑک پار کرنے کا حتمی ارادہ کر چکا تھا،

 بلا خوف و خطر، بنا دیکھے بھالے، بغیر سوچے سمجھے کہ  میرا ایکسیڈنٹ بھی ہو سکتا تھا۔۔۔ جی ہاں، ایکسیڈنٹ ہو سکتا تھا، بالکل ہو سکتا تھا، لیکن میں اس بارے میں کیوں سوچُوں!!  دیکھ بھال اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا، یہ سب مجھے نہیں آتا،  اتنی فہم وفراست مجھ میں نہیں ہے، میں تو رب تعالیٰ کی بنائی ایک ایسی تخلیق ہوں کہ  جس کے ذمے بس کھانے پینے، سونے جاگنے، او ر  چلنے پھرنے جیسے ہی کام ہیں،  میرے  ایکسیڈنٹ جیسی اہم بات کے متعلق سوچنا تو ذمے داری، اشرف المخلوقات کے رُتبے پر فائز اُن سمجھدار لوگوں کی تھی جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اپنی، اپنی گاڑیاں چلا رہے تھے۔۔۔ لیکن پھر انہوں نے دیکھا نہیں،  یہ سوچا نہیں کہ چوٹ لگے تو درد مجھے بھی ہوتا ہے،  تکلیف پہنچے  تو آنسو میرے بھی نکل آتے ہیں، اذیت حد سے بڑھ جائے تو جان میرے جسم سے بھی  جُدا ہو سکتی ہے۔۔۔ بس پھر کیا تھا مار دی ایک زور دار ٹکر۔۔۔ میں دور جا گرا تھا،  کئی جگہوں سے خون نکلنا شروع ہو گیا تھا،  لیکن شکر تھا کہ جان باقی تھی،  زندہ تھا میں،  کوئی مدد کرتا، مجھے میرے اسپتال لے جاتا  تو جان  بچ سکتی تھی میری۔۔۔ ابھی مدد کے انتظار میں ہی تھا کہ کسی بے درد نے گاڑی میری ٹانگوں  پر سے گزار دی تھی،  ایسی اذیت پہنچی تھی کہ بتا نہیں سکتا،  کاش بتا سکتا ہوتا تو ضرور بتاتا اور یہ پوچھتا بھی، کہ اپنے بچوں کی آنکھ میں آتا صرف ایک آنسو کتنا پریشان کر دیتا ہے آپ لوگوں کو،  اُسکی چھوٹی سی تکلیف آپکی  آنکھوں سے راتوں کی نیند چھین لیتی ہے،     

اپنے بچوں کو تو ہر دم ہنستے مسکراتے، کھیلتے کھلکھلا تے دیکھنا چاہتے ہیں آپ لوگ۔۔۔ تو پھر میں بھی تو ایک بچہ ہی ہوں!! میرے ساتھ یہ سب کیوں؟؟ پتہ نہیں لوگ یہ کیوں نہیں سمجھ رہے تھے کہ میں بھی ایک زندہ، جیتا جاگتا وجود ہوں، میں بھی جینا چاہتا ہوں،  مجھے بھی اپنی زندگی سے پیار ہے، ہر بچے کی طرح میری آنکھوں میں بھی کچھ خواب سجے ہیں۔۔۔ آپ کو بھی بتاؤں اپنے خوابوں کے بارے میں۔۔۔ تو سُنیں۔۔۔

 ”باغوں میں  جانا،،  پیڑوں پر  چڑھنا،،

دیواروں  پہ  چلنا،،  چھلانگیں  لگانا۔۔۔“

ارے یہ، یہ آپ لوگ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔ بھئی جیسا میں ہوں ویسے ہی میرے خواب ہیں، لیکن گاڑیوں میں بیٹھے وہ لوگ پتہ نہیں کیسے تھے کہ جو نہ کچھ سوچ رہے تھے اور  نہ ہی سمجھ،  بس جلدی میں تھے،  اتنی جلدی میں کہ کسی کی جان لے  لینا بھی اُنہیں  عجیب نہیں لگ رہا تھا،  ایک، دو  منٹ کو رُک جاتے تو کیا تھا،  اُنکا تھوڑا سا انتظا ر  مجھے میری زندگی بخش دیتا،  لیکن ایسا ہوا نہیں۔ کوئی رُکا نہیں۔۔۔ یکے بعد دیگرے، کسی نے ہاتھ کو کچُلا تو کسی  نے چہرے کو ،  

ایک گاڑی تو ایسے میرے اُوپر سے گزری کہ میرا پیٹ ہی پھٹ گیا اور میرے اندرونی اعضاء باہر آکر ایک دوسرے سے جُدا ہوگئے، اور پھر  میرے اوپر سے گزرنے والا ہر پہیہ میرے وجو د کی  شدید بے حرمتی کرتا چلا گیا،  زندگی مجھ سے اور میں زندگی سے جُدا ہوا ہی چاہتے تھے کہ مرنے  سے بس چند لمحے پہلے میں نے اُسے دیکھا تھا،  پتہ نہیں کیوں لیکن اسوقت وہ صرف مجھے ہی دکھائی دے رہی تھی،  وہ ایک کونے میں، چپُ چاپ کھڑی ”انسانیت“  تھی جسکی نظریں جھُکی تھیں،  پھر اُس نے ایک لمحے کو  میری طرف ایسے دیکھا جیسے شرمسار ہو،  خطا وار ہو اور  معافی کی طلبگار بھی،  میں تھا تو چھوٹا لیکن دل  بہت بڑا تھا، اسُے معاف کردیا۔۔۔  پھر اُس وقت ایک خیال  اور  بھی ذہن میں آیا تھا،  ا یک خوا ہشِ نا مرُاد نے سر اٹھایا  تھا کہ اے کاش میں بھی وہیں ہوتا، وہاں جہاں میرے جیسا کوئی وجود  اگربیچ  سڑک پر آجائے تو چاروں جانب سے آتی گاڑیاں رُک جاتی ہیں، اگر کبھی چوٹ لگ بھی جائے تو مجھے  پورے پروٹوکول کے ساتھ ایمبولینس میں اسپتال لے جایا جاتا ہے، اسپتال تو اسپتال، گھروں میں بھی میرا خوب خیال رکھا جاتا ہے،  روزانہ نہلانا دھلانا،صاف ستھرا ماحول  اور اچھا کھانا دیا جاتا ہے، دودھ فیڈر میں پینے کا تو مزا ہی الگ ہے،  موسم سردیوں کا ہو تو ہم جیسوں کو گرم کپڑے پہنا د ئیے جاتے ہیں۔۔۔ لیکن بس۔۔۔ بہت ہوا۔۔۔ اب میں اب آپ لوگوں سے باتیں نہیں کر رہا۔۔۔ آپ لوگ جس طرح کا سلوک میرے ساتھ روا رکھتے ہیں اُسکے بعد میرا دل آپ لوگوں سے بات کرنے کا نہیں چاہ رہا۔۔۔

یہ جسکا دل آپ لوگوں سے بات کرنے کا نہیں چاہ رہا معلوم ہے کون ہے؟؟ یہ ایک معصوم سا سفید رنگ کا بلی کا بچہ ہے جو آجکل ہم انسانوں سے ناراض ہے،  اور بالکل ٹھیک ناراض ہے۔۔۔ کیا انسانیت صرف انسانوں ہی کی فلاح و بہبود، کامیابی وکامرانی، تعظیم و تکریم، خوشیوں اور فوائد پر دلوں میں بیدار ہوتے کسی احساس اور جذبے کا  نام ہے؟ کیا انسانیت نامی کتاب کے کسی صفحے پر بلی کے بچے کو گاڑی کے پہیوں تلےِ روندنا اور پھر روندتے ہی چلے جانے جیسے عمل کا ذکر کہیں پر موجود ہے؟ جی ہاں بالکل موجود ہے!! بس ہماری ہی نظر اس ورق کو نہیں پہچان پا رہی،  انسانی ہاتھوں چلائی جانے والی گاڑیوں سے سر زد ہوتے اس حیوانی عمل میں روز بروز تیزی آتی جا رہی ہے، آج سڑک پر پڑے کسی بلی کے کُچلے وجود کو ہم سے دیکھا نہیں جاتا،  ہماری نظروں کو ایسے مناظر گوارا نہیں،  نگاہیں دوسری جانب پھیر لی جاتی ہیں، ایک طر ف تو اتنی حساسیت کے ایسا کچھ دیکھا نہ جائے اور دوسری جانب اسقدر بے رحمی کہ خود کو کسی کی جان لینے جیسے بوجھل ترین احساس سے آشنا بھی نہ ہونے دیا جائے۔۔۔ بھئی کہاں انتظار نہیں کرتے ہم لوگ؟ بینک ہوں یاریسٹورنٹ، بلوں کی ادائیگی ہو، اسپتال ہوں یا پھر پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن ہر جگہ  ہی انتظار ہو رہا ہوتا ہے نا،  تو پھر دو، چار منٹ کا سڑک پر کیوں نہیں؟؟ کافی وقت ہو گیا ہے۔۔۔ چلیے اب چلتے ہیں۔۔۔ چل کر اُس معصوم کی ناراضگی کو دُ ور کیے دیتے ہیں،  یہ وعدہ کرکے ، اُسے یہ یقین دلا ِ کے کہ  اب ہم اسُکا خیال رکھیں گے،  یہ بات سمجھیں گے کہ زندگی پر حق اُسکا بھی ہے،  جینے دیں گے اور کرنے  دیں گے اُسے اپنے خوابوں کو پورا۔۔۔ چلیں آئیں، چل کر منَا لیں اُسے!!

***

کاشف شمیم صدیقی