Thursday, February 2, 2023

حرکات سے لگتا ہے حملہ آور کو نشہ آور انجکشن لگایاگیا تھا، انٹیلی جنس ذرائع

حرکات سے لگتا ہے حملہ آور کو نشہ آور انجکشن لگایاگیا تھا، انٹیلی جنس ذرائع
لاہور(92 نیوز) ٹاپ انٹیلی جنس ذرائع نے داتا دربار خودکش حملے کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ حرکات سے لگتا ہے حملہ آور کو نشہ آور انجکشن لگایاگیا تھا۔ انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کو کسی بڑے دہشتگرد گروپ کی سپورٹ حاصل تھی، کالعدم تنظیم جس نے داتا دربار دہشتگرد ی کی ذمہ داری قبول کی ہے اس نوعیت کے حملے کی اہلیت نہیں رکھتی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گروپ کالعدم جماعت کا سپلنٹر گروپ ہے جو ٹی ٹی پی میں سے علیحدہ ہوا تھا اور انکا کمانڈر عمر خالد مہمند عرف خراسانی تھا ،خراسانی ایک ڈرون حملے میں مارا جا چکا ہے ،مکرم خان مہمند نے عمر خالد سے معاملات بگڑنے پر افغان صوبہ ننگرہار میں کچھ عرصہ پہلے نئے نام سے نیا دہشتگرد گروپ تشکیل دیا تھا۔

داتا دربار کے قریب پولیس وین کے نذدیک دھماکا ،10 افراد شہید

ذرائع کے مطابق اس گروپ کا   اہم کمانڈر جہاد یار محسود افغان صوبہ ننگرہار کے ساتھ پاکستان کی سرحد پر ایک انسداد دہشتگردی کاروائی میں ہلاک کر دیا گیا ،اس گروپ میں مسلم یار،حاجی رشید،عمران اورکزئی،قاری اسماعیل آفریدی اور عزیز یوسفزئی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کالعدم تنظیم کے تانے بانے بھی را  اور افغان این ڈی ایس سے جا ملتے ہیں جبکہ افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی دیگر پاکستان مخالف انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ان گروپس سے رابطے رکھتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ ننگرہار،کنڑ،پکتیا،قندھار اور نورستان میں مختلف دہشتگرد گروپس اور غیر ملکی فائٹرز کی موو منٹ کئی مرتبہ دیکھی جا چکی ہے  ،حملہ آور کی تصویر سے اندازہ لگانا زرامشکل ہے کہ وہ کس علاقے کا تھا ،لیکن محتاط اندازے سے اسکے چہرے کے نقش پاکستان کے قبائلی علاقے کے بھی لگتے ہیں اور افغان باشندہ بھی ہو سکتا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ  خود کش حملہ آور کی حرکات سے یہ لگتا ہے کہ اسے حملے سے کچھ وقت پہلے نشہ آور انجکشن لگایا گیا ہے ،تا کہ وہ ٹارگٹ پر دھماکہ کرتے وقت بلکل نہ چونکے ۔ خود کش بمبار کو ٹارگٹ پر لانچ کرنے کے لئے نشہ آور انجکشن کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے جو کہ حرکات سے لگتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ خود کش حملہ آور کو بلوچستان کے راستے پنجاب میں داخل کیا گیا اور اسے افغان صوبہ قندھار سے پاکستان میں داخل کیا گیا۔ننگر ہار اور کنڑ کے ساتھ فینسنگ اور واچ پوسٹس بڑھنے کی وجہ سے ان علاقوں سے دہشتگرد رسک نہیں لیتے ،پوٹینشل خودکش بمبار بہت کم ہوتے ہیں اس لئے دہشتگرد گروپ اسکو ٹارگٹ تک محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس بارے میں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے ،ٹاپ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا تھا کہ لاہور میں خود کش بمبار کے ساتھ ایک سے زائد سلیپر سیلز جڑے نظر آتے ہیں۔