Monday, September 26, 2022

سپریم کورٹ نے حدیبیہ ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے حدیبیہ ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے کیس سننے سے معزرت پر چیف جسٹس نے نیا تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا ۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے حدیبیہ ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔
وکیل نیب عمران الحق نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسارکیا کہ اصل ریفرنس کہاں ہے؟۔
وکیل نیب نے کہا کہ اصل ریفرنس ان کے پاس نہیں ہے۔ عمران الحق کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے پاس غیر قانونی رقم بڑی تعداد میں موجود تھی ۔ اسحاق ڈار کے زریعے جعلی بینک اکاونٹس کھولے گئے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نیب کی نظر میں نواز شریف خود گئے یا بھیجے گئے ۔ عمران الحق نے کہا کہ پرویز مشرف کے حکم پر نواز شریف کو باہر بھیجا گیا ۔ ملزمان کی واپسی پر مقدمہ احتساب عدالت میں دوبارہ شروع ہوا۔
جسٹس مشیرعالم نے پوچھا کہ کیا چیئر مین نیب کے دستخط سے ریفرنس دائر ہوا۔ عمران الحق نے بتایا کہ دوبارہ ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا ۔
جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ نو ماہ تک ملزمان ملک میں رہے،ٹرائل کیوں مکمل نہیں ہوا ۔ ملزم مفرور ہو تو کیس مختلف ہوتا ہے ۔ جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ ریفرنس طویل مدت کے لیے زیرالتوا نہیں رکھا جاسکتا۔
عمران الحق نےکہا کہ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد اپیل دائر کی ۔ جس پر جسٹس فائزعیسی نےکہاکہ ہم پانامہ کیس نہیں، نیب کی اپیل سن رہے ہیں ۔
وکیل نیب نے کہا کہ حدیبیہ ریفرنس پران کی مکمل تیاری نہیں ۔ دالت نے کیس کی سماعت 11دسمبر تک ملتوی کردی۔