Tuesday, October 4, 2022

حدیبیہ پیپرز مل کیس کی کارروائی جمعہ تک ملتوی

حدیبیہ پیپرز مل کیس کی کارروائی جمعہ تک ملتوی

اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرز مل کیس کی کارروائی جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔
جسٹس مظہرعالم خیل کے فیملی ممبر کی رحلت کے باعث حدیبیہ کیس کی سماعت آج نہ ہو سکی۔ کیس کی سماعت بنچ کے رکن جسٹس مظہرعالم میاں خیل کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کی گئی۔
گزشتہ سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے پیسے ادھرچلے گئے ادھرچلے گئے یہ کہانیاں ہیں ۔ پراسیکیوشن نے چارج کے متعلق بتانا ہوتا ہے ۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا جے آئی ٹی نے حدیبیہ کیس کھولنے کی سفارش کی ۔ منی ٹریل حدیبیہ ملز سے جڑی ہے ۔
سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر عمران الحق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے حدیبیہ ریفرنس کھولنے کی سفارش کی ۔ منی ٹریل حدیبیہ پیپر مل سے جڑی ہے ، اسی لیے اس کیس کو دوبارہ کھولنے کا کہا گیا ۔ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے ستمبر 1991 میں شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کا آغاز کیا۔
نیب کے وکیل نے کہا کہ حدیبیہ کا ذکر پانامہ فیصلے میں نہیں ۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ہم نے صرف اکثریتی فیصلہ پڑھنے کا کہا ہے ۔ پانامہ فیصلے کو حدیبیہ کے ساتھ کیسے جوڑیں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رائے دی ہے مجرمانہ عمل کیا ہے وہ بتادیں؟ ، ممکن ہے یہ انکم ٹیکس کامعاملہ ہو ۔ پیسے ادھرچلے گئے ادھرچلے گئے یہ کہانیاں ہیں۔
وکیل نیب نے عدالت کو بتایا کہ فارن اکاؤنٹ منجمد کرنے سے پہلے ملزمان نے اپنا پیسہ نکلوا لیا تھا۔
جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اکاؤنٹ سے پیسے کس نے نکلوائے نام بتائیں ۔ وکیل نیب نے کہا کہ اسحاق ڈار نے بیان میں رقوم کے نکلوانے کا اعتراف کیا جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ایسی صورت میں متعلقہ دستاویزات ہمارے سامنے ہونی چاہیے ۔
جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ بیانات چھوڑیں شواہد بتائیں ۔