Tuesday, January 18, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

جے آئی ٹی کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ، اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل

جے آئی ٹی کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ، اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل
July 19, 2017

 

اسلام آباد(92نیوز)سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ میڈیا فرینڈلی ہے،رپورٹ حقائق پر مبنی ہے نہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کی پابند نہیں تاہم رپورٹ کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے گی ۔

تفصیلات کےمطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل ایڈووکیٹ طارق حسن دلائل دیئے کہ اسحاق ڈار سے متعلق  جے آئی ٹی کی رپورٹ  حقائق پر مبنی نہیں، جے آئی ٹی صرف رائے دے سکتی ہے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کیخلاف آپ شواہد پیش کرسکتے ہیں۔ اسحاق ڈار کو ٹرائل کورٹ میں صفائی کا موقع ملے گا۔ سپریم کورٹ صفائی دینے کا فورم نہیں۔ جسٹس عظمت سعید شیخ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے کچھ نہ کچھ تو کہنا ہے۔ وکیل اسحاق ڈار نے دلائل میں کہا کہ ان کے مؤکل پر جو الزامات لگائے گئے ان کا دفاع کرینگے۔ اسحاق ڈار پروفیشنل پہلے اور سیاستدان بعد میں ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ان پر ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے کا الزام ہے۔ طارق حسن کا کہناتھا کہ جے آئی ٹی نے رائے دی ہے کہ اسحاق ڈار نے  انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اسحاق ڈار پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ وکیل اسحاق ڈار نے کہا کہ جے آئی ٹی نے پروفیشنل ہونے کے باوجود اسحاق ڈار پر ٹیکس چوری کا الزام لگایا۔ جے آئی ٹی کے مطابق 5.5ملین روپے کے فنڈ کے ذرائع بار بار اصرار کے باوجود نہیں بتائے۔اسحاق ڈار پر اپنی این جی او کو فنڈز دینے کا الزام ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا ایف بی آر نے جے آئی ٹی کو ٹیکس ریٹرن کا ریکارڈ فراہم کیا؟ اگر ایسا ہے تو ریکارڈ ہمیں فراہم کیا جائے۔ایف بی آر کے مطابق 1982سے2006تک کا ریکارڈ نہیں ملا۔ جسٹس عظمت سعید کا کہناتھا کہ ایف بی آر کا بھی تعلق اسحاق ڈار کی وزارت سے ہے۔وکیل طارق حسن نے کہا کہ نیب نے 1999میں اسحاق ڈار کاٹیکس ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ نیب سے ریکارڈ لے کر ایف بی آر کو دیا گیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ریکارڈ قبضے میں لینے اور واپس کرنے کا کچھ تو تحریری ثبوت ہوگا۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 1995سے 2017 تک اسحاق ڈار اور اہلیہ نے مکمل ریکارڈ پیش کیا۔ رات کو 8 بجے نیب سے ریکارڈ وصول کیا اور جمع کرایا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے حاصل کردہ مواد پر فیصلہ ہوسکتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہناتھاکہ رپورٹ پیش ہونے سے 2دن قبل ریکارڈ جمع کرایا گیا،۔وہ ریکارڈ کدھر ہے۔ جسٹس عظمت سعید نےریمارکس میں کہا کہ اعترافی بیان کو تسلیم نہ کرنے پر معافی  ختم تصور ہوگی۔ وکیل اسحاق ڈار نے کہا کہ جو معاملہ ختم ہوگیا  اسے دوبارہ نہیں سنا جاسکتا،۔جسٹس  اعجازالاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کو نیب ،ایف بی آر کے مکمل ریکارڈ کے جائزہ کا اختیار دیا۔جے آئی ٹی نے وجوہات کی بنا پر نتائج اخذ کئے۔ جسٹس اعجازافضل نے نے کہا کہ اسحاق ڈار بطور گواہ پیش ہوئے۔ اعترافی بیان کے بعد شریک ملزم بن گئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ1993میں اسحاق ڈار کے اثاثے 9ملین روپے تھے،854ملین ہوگئے۔جے آئی ٹی رپورٹ آنکھیں کھولنے کیلئے یہ کافی ہے درخواستگزاروں نے اسحاق ڈار کی نااہلی کی استدعا کی تھی۔ اس موقع پر عدالت نااہل قرار نہیں  دے سکتی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ عدالت چیئرمین نیب کو اپیل دائر کرنے کا حکم دے سکتی تھی،مگر ایسا نہ کیا۔جسٹس اعجاز الاحسن  نے کہا کہ ہل میٹل کمپنی سے دبئی میں علی ڈار کی کمپنی میں ٹرانزیکشن ہوئی۔اگر اسحاق ڈار شارٹ کٹ چاہتے ہیں تو ایسا ممکن نہیں ۔شارٹ کٹ سے اسحاق ڈار کو  ریلیف نہیں مل سکتا۔اسحاق ڈار کی جانب سے چارٹرڈاکاؤنٹنٹ اشفاق تولہ  عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ جے آئی ٹی پر اعتراض ہے تو ریکارڈ ساتھ لائیں۔ وکیل اسحاق ڈارنے کہاکہ ریکارڈ کل جمع کروادونگا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ 23سال سے غائب  ریکارڈکو کیسے دیکھیں؟ ریکارڈ رکھنے والے گواہوں کو بھی سننا پڑے گا۔ طارق حسن بولے کہ جے آئی ٹی نے رپورٹ بدنیتی سے مرتب کی جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ خواجہ حارث نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا،کوئی نئی بات کریں۔چاہتے تو درخواستیں منظور کرتے یا مسترد کردیتے۔عدالت نے مزید دستاویزات دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طارق حسن نے کہا کہ اسحاق ڈار جے آئی ٹی میں دیے گئے بیان کو چیلنج کرتے ہیں۔ جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان سے انکار کررہے ہیں۔ وکیل اسحاق ڈار بولے کہ ان کے کہنے کا یہ مطلب نہیں۔ حسن،حسین،مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ ریکارڈ مرتب کررہے ہیں کل صبح اپنے دلائل دینگے۔