Tuesday, September 27, 2022

جہلم ، قلعہ روہتاس محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث اپنی شان کھونے لگا

جہلم ، قلعہ روہتاس محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث اپنی شان کھونے لگا
جہلم (92 نیوز) جہلم میں پانچ سو سال پرانا قلعہ روہتاس فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے، جہاں دنیا بھر سے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں لیکن محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث قلعہ اپنی اصل شان و شوکت کھوتا جا رہا ہے۔ جہلم کے شہر دینہ سے جی ٹی روڈ پر سات کلومیٹر جنوب کی طرف نالہ گھان اور کس کے سنگم پر واقع قلعہ روہتاس سطح زمین سے تقریباً تین سو فٹ بلندی پر بنایا گیا ہے۔ ساڑھے چھ مربع رقبے پر محیط قلعے کی دیواریں تقریباً چار کلومیڑ لمبی ہیں۔قلعے میں فصیلیں، خفیہ دروازے، سرنگیں اور برج نہایت ترتیب سے بنائے گئے ہیں۔ شاہی محل، رانی محل، لنگر خانہ، بارہ دروازے اور اڑسٹھ برج قلعے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے ہیں۔قلعے میں اٹھارہ ہزار آٹھ سو چھپن کنگرے اور فصیلوں کی ساڑھے آٹھ ہزار سیڑھیاں ہیں۔مسجد اور کنویں کے علاوہ بزرگان دین کے مزارات بھی قلعے کا حصہ ہیں۔ قلعے میں چند سال قبل بنائے گئے شیر شاہ میوزیم میں قدیم سکے، تلواریں، ڈھالیں، قلمی قرآن پاک، شیرشاہ سوری اور ان کی ملکہ کے مجسمے بھی رکھے گئے ہیں، لیکن اب اسے بند کر دیا گیا ہے۔ قلعے کو دیکھنے کے لئے لوگ جوق درجوق یہاں کھنچے چلے آتے ہیں لیکن محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث یہ قلعہ اپنی اصل حالت کھوتا جا رہا ہے۔ دیواریں اور دروازے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ سیاحوں نے قلعے کی حالت زار پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔