Sunday, January 23, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

شہبازشریف خادم اعلیٰ نہیں قاتل اعلیٰ ہے، عمران خان

شہبازشریف خادم اعلیٰ نہیں قاتل اعلیٰ ہے، عمران خان
February 10, 2018

لودھراں (92 نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نا اہل کیا ہم نے عدالت کا فیصلہ مان لیا ۔
لودھراں میں جلسے سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سیاست نہیں مافیا کے خلاف جہاد کر رہا ہوں ۔ جب نواز شریف سے پوچھا کہ ملک سے پیسہ کیسے باہر گیا تو قطری خط لے آیا ۔ شریف خاندان لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے ۔
عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو مافیا کا سردار کہا ۔ نواز شریف اداروں کو خریدتا ہے اور ملک کو تباہ کرتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر دباو ڈالنے اور بلیک میل کرنے کے لئے ہم پر کیسز کئے گئے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جہانگیر ترین نے کوئی کرپشن نہیں کی ۔ جہانگیر ترین نے اپنے اثاثے پہلے ہی ڈکلئیر کئے ہوئے تھے ۔
عمران خان نے کہا کہ جہانگیر ترین سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے ۔ جہانگیر ترین شریفوں اور زرداری کی طرح نہیں ۔ جب کسان محنت کر کے شوگر مل میں جائے ان کو پورا پیسہ نہ دے ۔
ادھر جوش خطابت میں عمران خان نے شہباز شریف کو قاتل اعلیٰ کہ ڈالا انکا کہنا تھا کہ یہ خادم اعلیٰ نہیں قاتل اعلیٰ ہے ۔ شہباز شریف کے دور میں پولیس نے 870 قتل کئے ۔ عابد باکسر نے کہا کہ وہ شہباز شریف کے کہنے پر لوگوں کو قتل کرتا تھا ۔
عمران خان نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس عابد باکسر کی حفاظت کرو وہ بتائے گا کہ شہباز شریف کتنا بڑا قاتل اعلیٰ ہے ۔
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ نواز شریف مافیا ہے ۔ وزیروں کے ساتھ ملکر ملک سے پیسہ چوری کرتا ہے اور باہر لے جاتا ہے ۔ نواز شریف وہ مافیا ہے جو لوگوں کو خریدتا ہے اور ملک کے اداروں کو تباہ کرتا ہے ۔
عمران خان نے نواز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اک جلسہ تم کرو کہ تمہیں کیوں نکالا ایک میں کرتا ہوں کہ تمہیں ٹھیک نکالا ۔ انہوں نے کہا کہ دیکھ لیتے ہیں کس کے جلسے میں لوگ زیادہ آتے ہیں ۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جتنا قرضہ نواز شریف کے دور میں لیا گیا کسی دور میں نہیں لیا گیا ۔ وہ پیسہ جو ملک پر لگنا چاہیے وہ چوری کر کے باہر لے جایا گیا ۔ جب پیسہ باہر جاتا ہے تو ڈالر کی کمی ہوتی ہے اور ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں ۔