Wednesday, December 7, 2022

جھوٹے گواہ اب مزید قابل قبول نہیں ہوں گے ، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

جھوٹے گواہ اب مزید قابل قبول نہیں ہوں گے ، چیف جسٹس آصف سعید  کھوسہ
 کراچی (92 نیوز) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا اکثر جھوٹے اور چشم دید گواہ مدعی کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ جھوٹے گواہ اب مزید قابل قبول نہیں ہوں گے۔ کراچی میں تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا فوجداری نظام میں دو بڑے نقائص ہیں۔ پہلا جھوٹی گواہی اور دوسرا تاخیری حربے ہیں۔ ہمیں تفتیشی عمل کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پولیس کے نظام کو بھی بہتر بنانا چاہئے۔ عدالتوں کو تفتیشی افسران کے رحم وکرم پر رہنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا صرف پولیس کے سامنے ہی اقرارجرم کرنا کافی نہیں۔ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ عدلیہ کی آزادی کی طرح پولیس کی آزادی بھی ضروری ہے۔ اکثرجھوٹے اور چشم دید گواہ مدعی کے رشتہ دار ہوتےہیں۔ انہوں کا کہنا تھا اسلامی نظام میں ایک بار جھوٹ بولنے والے کی گواہی قبول نہیں ہوتی ۔ جھوٹے گواہ اب مزید قابل قبول نہیں ہوں گے۔ انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو جھوٹی گواہی کا خاتمہ ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا تاخیری حربوں پر قابو پانے کیلئے 3 اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ اب مقدمات میں التوا نہیں دیا جائے گا۔ پہلے ایک کیس میں تمام شہادتوں کو نمٹایا جائے گا۔ ہرضلع میں ایک ماڈل کورٹ قائم کی جائے گی۔ اب ایک کیس کا فیصلہ کئے بغیر دوسرے کیس میں شہادتیں نہیں ریکارڈ ہوں گی۔ واقعے کی شہادتیں جمع کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا گزشتہ 86 روزمیں قتل اور منشیات کے 9767 کیس نمٹائے۔ صنفی امتیاز اور تشدد کے حوالے سے ہر ضلع میں ایک عدالت ہو گی۔ دنیا کا پہلا ای کورٹ سسٹم پاکستان میں متعارف کرایا گیا ہے۔