Sunday, September 25, 2022

جنوبی وزیرستان کے بیشتر علاقے بنیادی سہولیات سے محروم

جنوبی وزیرستان کے بیشتر علاقے بنیادی سہولیات سے محروم

پشاور (92 نیوز) وفاقی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جنوبی وزیرستان کے بیشتر علاقے دور جدید میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے بعد زندگی تو معمول پر آگئی لیکن بیشتر علاقے ابھی تک بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ تحصیل سرویکئی، گاؤں اپر سپلاتوئی، اور سرمشی راغزائی میں اس دور جدید میں بھی  کوئی اسکول اور اسپتال نہیں ہے۔
ان علاقوں کے مکین سڑکوں سے بھی محروم ہیں اور ان کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی نعمت بھی دستیاب نہیں ہے۔
علاقے کے مکینوں نے کہا کہ تباہ شدہ مکانوں کی تعمیر کیلئے ملنے والی امداد بھی تین سو سے زائد خاندانوں کیلئے نا کافی ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں کا سروے ہی نہیں کیا گیا جس سے سینکڑوں افراد کو بین الاقوامی امداد سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔
ان علاقوں کی حالت زار وفاقی حکومت اور فاٹا سیکرٹریٹ سمیت ٹی ڈی پیز سیکرٹریٹ کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے لیکن مقامی پولیٹکل انتظامیہ سب اچھا کی رپورٹ پیش کر رہی ہے۔
متاثرین نے کہا کہ دس سال کسمپرسی کی زندگی گزاری۔ اب آبائی علاقوں میں واپسی بھی ہوئی تو تقدیر نہیں بدلی۔ حکومت کو چاہئیے کہ جنوبی وزیرستان کی پسماندگی کے خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات کرے۔