Thursday, October 6, 2022

جنوبی بحیرہ چین میں فوجی تنصیبات کی تعمیر پر امریکا اور چین کے درمیان لفظی جنگ

جنوبی بحیرہ چین میں فوجی تنصیبات کی تعمیر پر امریکا اور چین کے درمیان لفظی جنگ
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا اور چین میں جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے پر کشیدگی اور لفظی جنگ میں شدت آ گئی ہے اور مریکی صدر براک حسین اوباما نے کہا ہے کہ جنوبی بحیرہ چین کے جزائر پر فوجی تعمیرات جارحانہ اور نقصان دہ ہیں۔ وائٹ ہاوس میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے نوجوان لیڈروں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکاجنوبی بحیرہ چین کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا چین کامیاب ملک ہے جس کے لوگ محنتی اور باصلاحیت ہیں لیکن انہیں دوسروں سے زبردستی اپنی بات منوانی نہیں چاہئے۔ اس سے پہلے شنگریلا کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے بھی جنوبی بحیرہ چین کے جزائر پر فوجی تعمیرات کا مسئلہ اٹھایا تھا لیکن چین نے ایشٹن کارٹر کے بیان کو مسترد کردیا تھا۔ قبل ازیں جان کیری نے علاقائی ممالک کا دورہ کیا اور ان کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ پر بات کی۔ چین کے جنوبی بحیرہ چین کے جزائر کی ملکیت پرویت نام، فلپائن ، ملائیشیا، سنگا پور اور جاپان سے اختلافات ہیں اورامریکا ان ممالک کی چین کے مقابلے میں پیٹھ ٹھونک رہا ہے تو دوسری طرف چین کو خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر اعتراضات ہیں۔ حال ہی میں امریکا نے فلپائن میں فوجی اڈے مستحکم کرنے کے ساتھ ویتنام کے ساتھ بھی دفاعی معاہدہ کیا ہے۔