Friday, October 7, 2022

فاٹا کے انضمام کیلئے جماعت اسلامی کی حکومت کو 31 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن

فاٹا کے انضمام کیلئے جماعت اسلامی کی حکومت کو 31 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن

اسلام آباد ( 92 نیوز ) فاٹا کے انضمام اور اصلاحات کیلئے جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی زیر قیادت مارچ کے شرکا وفاقی دارالحکومت پہنچے ۔


مارچ خیبر ایجنسی سے شروع ہو کر پشاور سے جی ٹی روڈ کے راستے آیا ۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات منظور نہ کئے گئے تو 31 دسمبر کو مستقل دھرنا دے دیا جائے گا۔
سراج الحق نے مزید کہا کہ اگر فاٹا کے عوام کو حق نہ ملا تو عوام کے ہاتھ ہوگا اور حکمرانوں کا گریبان ہوگا۔
فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے تاخیری حربوں کےخلاف 10دسمبر کو جاعت اسلامی نے پشاور تک لانگ مارچ کا آغازکیا تھا جو آج اسلام آباد میں چائنا چوک پر اختتام پذیر ہوگیا۔
چائنا چوک میں مارچ نے جلسے کی شکل اختیار کرلی ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبرتک فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام نہ ہوا تو قبائلی عوام پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے خیمے لگا دیں گے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران قاضی حسین احمدکے دھرنے کو یادرکھیں جس کے بعد حکومت ختم ہوگئی تھی ۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ بھی جاعت اسلامی کے دھرنا میں پہنچ گئے ۔ ان کا کہناتھا کہ یہ معلوم نہیں کہ حکومت کن وجوہات کی بنا پر فاٹا کا کے پی کے سے انضمام نہیں کررہی ۔ اپوزیشن لیڈر کا کہن اتھا کہ سال 2018 سےپہلےفاٹا کا انضمام کرائیں گے ۔حکومت کےپاس یہ آخری موقع ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اللہ کا کہنا تھا کہ ہم ایف سی آرکو قبر میں دفنا کرجائیں گے ۔ وزیراعظم بتائیں کہ قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے فاٹا بل کوکیوں نکالا گیا۔