Wednesday, September 28, 2022

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس ، جے آئی ٹی نے مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس ، جے آئی ٹی نے مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا
اسلام آباد (92 نیوز) جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں جے آئی ٹی نے 33 مزید مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا۔ سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رہے ، اب تک کی تحقیقات میں 334 ملوث افراد سامنے آئے ہیں۔ تمام افراد اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنر کرتے رہے۔ مزید 33مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ بھی لگایا ہے۔ جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس میں کنٹریکٹرز نے رقم جمع کرائی ہے، تحقیقات کیلئے نیب، ایف بی آر ، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک سے ریکارڈ لے رہے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا رقم کراس چیک کے ذریعے اکاؤنٹس میں جمع ہوئی؟ جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا جائزہ لینا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ابھی لانچز کا معلوم نہیں ہوا؟ذرا لانچ کے ذریعے رقم منتقلی کا بھی پتا کریں۔ اکاؤنٹس کا مقصد یہی ہے چوری اور حرام کے پیسے کو جائز بنایا جائے،بڑے اعتماد کےساتھ جے آئی ٹی کو ذمے داری دی ہے ، کیس میں ایک اہم کردار عارف خان بھی ہے۔ جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ عارف خان بیرون ملک ہے، کس ملک میں ہے ابھی ظاہر نہیں کر سکتا، جو ملزمان باہر ہیں انہیں واپس لانے کے اقدامات کر رہے ہیں، ملزمان کے ریڈ وارنٹ کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا اومنی گروپ کو جے آئی ٹی کے اخراجات کی ادائیگی کا حکم بھی سامنے آیا۔ وکیل انور مجیدو عبدالغنی مجید نے جے آئی ٹی کے اخراجات دینے سے انکار کر دیا۔ وکیل نے  عدالت کو بتایا کہ  اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد ہیں جنہیں کھلوانے کیلئے ٹرائل کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے۔ عدالت نے اومنی گروپ کے اکاؤنٹس غیر منجمد کرنے سے روک دیا اور حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ اکاؤنٹس کھولنے کی درخواست پر فیصلہ نہ دے کیونکہ معاملہ براہ راست سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 184 کے تحت سپیشل کورٹ کو حکم جاری کرنے سے روکتے ہیں۔ عدالت  نے انور مجید میڈیکل بورڈ کیس میں انور مجید ، عبدالغنی مجید  اور حسین لوائی   کو  جیل  واپس    بھجوانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس  نے ریمارکس  دیئے کہ سپریٹنڈنٹ  کا  گھر ملزمان   کے لیئے نہیں ہو  گا ۔ اگر ایسا  ہوا تو ذمہ داران کے خلاف  ایکشن لیں گے ۔ یہ بھی  ہو  سکتا ہے کہ ملزمان کو  سندھ  سے  کسی  دوسرے صوبے منتقل کر دیں۔ عبدالغنی مجید کو  سرجری کی ضرورت ہو تو    پہلے عدالت   سے اجازت لی جائے۔ آپریشن کروا کر  واپس    جیل آنا پڑھے گا۔