Friday, September 30, 2022

جراثیم اینٹی بایوٹک ادویات سے طاقتور ہو گئے‘ طبی ماہرین نے 2050ءکو تباہ کن قرار دیدیا

جراثیم اینٹی بایوٹک ادویات سے طاقتور ہو گئے‘ طبی ماہرین نے 2050ءکو تباہ کن قرار دیدیا
لندن (ویب ڈیسک) ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا اینٹی بایوٹک ادویات کے خلاف مدافعت رکھنے والے جراثیم کے خلاف جنگ تیزی سے ہار رہی ہے اور اس سے لاحق خطرے کو دہشت گردی جتنا بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050ءتک ”سپر بگ“ جراثیم ہر تین سیکنڈ میں ایک انسان کو ہلاک کر رہے ہوں گے۔ یاد رہے کہ سپر بگ ایسے جراثیم کو کہا جاتا ہے جن کے خلاف کئی اقسام کی اینٹی بایوٹکس اثر نہیں کرتیں۔ طبی ماہرین نے جدید طب کو تاریک دور میں واپس جانے سے بچانے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے مگر اس کیلئے اربوں ڈالر درکار ہونگے۔ طبی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2014ءسے اب تک دس لاکھ سے زیادہ لوگ اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت رکھنے والے جراثیم کا شکار ہو چکے ہیں۔ جراثیم اب آخری حربے کے طور پر استعمال کی جانے والی اینٹی بایوٹک کولسٹین کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ اس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ دنیا اینٹی بایوٹک ادویات سے قبل کے دور کی جانب پھسلتی جا رہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر صورتحال خراب ہوئی تو 2050ءتک سالانہ ایک کروڑ لوگ مدافعتی جراثیموں کا نشانہ بن رہے ہوں گے۔