Sunday, November 27, 2022

جدید ٹیکنالوجی، مناسب حکمت عملی سے میری ٹائم چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، ایڈمرل کلیم

جدید ٹیکنالوجی، مناسب حکمت عملی سے میری ٹائم چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، ایڈمرل کلیم
کراچی ( 92 نیوز) وائس چیف آف دی نیول اسٹاف وائس ایڈمرل کلیم شوکت نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مناسب حکمت عملی کے استعمال سے ابھرتے ہوئے میری ٹائم چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔کراچی میں جاری آئیڈیاز2018 کے دوران میری ٹائم کانفرنس سے خطاب میں  انھوں نے کہا کہ پاکستان ہیرے کی کان کی دہلیز پر بیٹھا ہے اور میری ٹائم سیکٹر کی آگاہی میں پاک بحریہ کا کردار قابل ستائش ہے۔ دریں اثنا آئیڈیاز2018 کے دوسرے روزدیگر اہم سرگرمیوں کے علاوہ اٹلی، اردن، پولینڈ،ترکی اور سری لنکاکے مختلف معززین نے وائس چیف آف نیول اسٹاف سے ایڈمرل کلیم شوکت سے ملاقاتیں کیں۔ اہم وفود میں کمانڈر رائل اردن نیول فورسز، بریگیڈئیر جنرل ابراہیم سلمان النعمت ،ڈپٹی ڈائریکٹر اور سیکریٹری جنرل برائے دفاع اور نیشنل آرمامنٹ اٹلی ایڈمرل ڈاریو گیاکومن، ڈی جی ایڈمن سری لنکن نیوی رئیر ایڈمرل کے جی پال، ڈائریکٹر آرمامنٹ پولینڈ آرمی بریگیڈئیر جنرل کارلو ڈائی مو نوسکی، وائس پریذیڈنٹ ڈیفنس انڈسٹریز ترکی مرات سیکر اور وائس پریذیڈنٹ ایم ایس لیونارڈو اٹلی ماریزیوفیچن شامل تھے۔ملاقاتوں کے دوران باہمی دفاعی تعاون بشمول پلیٹ فارمز، ہتھیاروں اور سنسرز کی تیاری اورمختلف شعبوں میں باہمی تربیتی اشتراک کے علاوہ درپیش میری ٹائم چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل آئیڈیاز2018 کے دوسرے روز نیشنل سینٹر فار میری ٹائم پالیسی ریسرچ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افئیرز کراچی کے زیر اہتمام پاک بحریہ کی سرپرستی میں ایک میری ٹائم کانفرنس منعقد کی گئی، میری ٹائم کانفرنس کا عنوان" بحر ہند میں میری ٹائم سیکیورٹی کے اہم پہلو اور میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے جدت کی ضرورت اور اہمیت" تھا۔ وائس چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل کلیم شوکت تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ کمانڈر رائل اردن نیول فورسز، بریگیڈئیر جنرل ابراہیم سلمان النعمت نے کانفرنس میں بطور گیسٹ آف آنر شرکت کی۔وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔کانفرنس کے دوران ممتاز مقامی مقررین کے ساتھ ساتھ معروف بین الاقوامی سکالرز نے بھی پیچیدہ فوجی اور بحری خطرات اور انکے حل پر بات چیت کی۔ دور حاضر میں انڈین اوشن ریجن کی اہمیت اور ساحلی ممالک کو در پیش سیکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے وائس چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل کلیم شوکت نے کہا کہ بحری قذاقی اور دہشت گردی، ماحولیاتی آلودگی، غیر قانونی بحری سرگرمیاں، انسانی اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ، مختلف ممالک کے مابین حل طلب تنازعات اور تدبیراتی مسابقت بحر ہند کی سیکیورٹی کو سنگین خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان چیلنجز کی نوعیت کا تقاضا ہے کہ ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے مشترکہ کاوشیں کی جائیں۔ ایڈمرل کلیم شوکت نے کہا کہ دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کے علاوہ موثر میری ٹائم آگہی کے فروغ کے لئے لازم ہے کہ نئی تکنیکی ایجادات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا یا جائے۔صرف جدید ٹیکنالوجی اور مناسب حکمت عملی کے استعمال سے ہی ابھرتے ہوئے میری ٹائم چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاک بحریہ میری ٹائم سیکیورٹی کے لئے کثیر الملکی کاوشوں کا اہم حصہ رہی ہے، حال ہی میں پاک بحریہ کی جانب سے شروع کیا جانے والا میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کے فروغ کے لئے کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں میں اہم اضافہ ہے۔ کمانڈر رائل اردن نیول فورسز، بریگیڈئیر جنرل ابراہیم سلمان النعمت نے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز پیچیدہ اور ربط باہمی کے حامل ہیں۔ ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا واحد طریقہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین باہمی تعاون اور اشتراک میں اضافہ ہے۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افئیرز ،وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) سید خاور علی نے حاضرین کو کانفرنس کے موضوع کی اہمیت سے آگاہ کیا۔