Thursday, October 6, 2022

جامعہ فاروقیہ کے سربراہ مولانا عادل خان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق

جامعہ فاروقیہ کے سربراہ مولانا عادل خان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق

کراچی ( 92 نیوز) جامعہ فاروقیہ  کے سربراہ مولانا عادل خان نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے ڈرائیور سمیت جاں بحق ہو گئے ۔ واقعہ کراچی کی شاہ فیصل کالونی میں  پیش آیا ۔  گورنر  و وزیر اعلیٰ سندھ  ، صوبائی وزراء ،اراکین صوبائی و قومی اسمبلی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک عظیم نقصان قرار دیا۔

شر پسند کراچی  کا  امن  تباہ  کرنے درپے  ہیں ، شاہ  فیصل کالونی شمع چوک کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے مذہبی رہنما  مولانا عادل خان کی کار پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ اپنے ڈرائیور مقصود سمیت جاں  بحق ہوگئے۔

واقعہ کی  اطلاع پر  ریسکیو ٹیموں نے مولانا عادل خان نجی اسپتال جبکہ ان کے ڈرائیور جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی  ۔

جے یو آئی   کے رہنما  ناصر سومرو نے واقعہ کو سازش  قراردیتے ہوئے  ملوث ملزمان کی گرفتار  کا مطالبہ کیا ، ایڈیشنل آئی جی کراچی  غلام نبی میمن نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا میڈ یا سے  گفتگو میں  بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد  3 جو ایک  ہی موٹر سائیکل پر سوار  تھے۔

انچارج سی ٹی  ڈی راجہ عمر خطاب نےکہا  مولانا عادل پر  حملے میں نائن ایم ایم پستول کا  استعمال کیا گیا واقعہ کی مزید تحقیقات کررہے ہیں  ۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے  ہوئے  قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایت کردی ، کہا کہ کچھ شرپسند عناصر شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں، ہم قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

آئی جی سندھ مشتاق مہر نے وزیراعلیٰ سندھ کو واقعے  کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی جس کے مطابق شاہ فیصل کالونی  میں مولانا عادل اپنی ویگو کے ساتھ رُکے اور اُن کا ایک ساتھی کچھ خریدنے گیا، اس دوران حملہ آوروں نے مولانا  کی گاڑی پرفائرنگ کی  ۔

دوسری جانب جناح اسپتال میں مولانا کے ڈرائیور  مقصود کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا جبکہ مولانا عادل کا صرف معائنہ کیا گیاجس کے مطابق مولانا  عادل خان کے چہرے پر 4 اور بازو پر ایک گولی لگی جبکہ ڈرائیور مقصود کو ایک گولی سر میں ماری گئی ۔