Wednesday, November 30, 2022

باپ بیٹے میں تحائف کے تبادلے میں کوئی قباحت نہیں: سپریم کورٹ

باپ بیٹے میں تحائف کے تبادلے میں کوئی قباحت نہیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (92نیوز) سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس میں کہا ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تحائف کے تبادلے میں کوئی قباحت نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت جب تک مطمئن نہیں ہوتی آپ کو نہیں جانے دینگے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیے کہ عدالت کا بہت وقت لے چکا ہوں لہٰذا آج اپنے دلائل مکمل کرلوں گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالت کی بہترین معاونت کررہے ہیں۔ آپ کو کیس ختم کرنے کی جلدی کیا ہے؟ عدالت جب تک مطمئن نہیں ہوگی آپ کو جانے نہیں دینگے۔

نعیم بخاری نے دلائل دیے کہ مریم نوازنے اپنے والد سے تین سال میں 68 کروڑ سے زائد رقم بطور تحفہ لی۔ کیپٹن صفدر کے رکن اسمبلی بننے سے پہلے ٹیکس نمبر ہی نہیں تھا تو وہ کیسے اپنی اہلیہ کی کفالت کرسکے۔

وزیراعظم کو حسین نواز نے 81 کروڑ روپے بطور تحفہ دیے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تحفہ دینے والے کا نیشنل ٹیکس نمبر ہونا ضروری ہے جو حسین نواز پیش کر چکے ہیں۔  جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ والد اور بیٹے کے درمیان تحائف کے تبادلے میں کوئی قباحت نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ تحائف کے تبادلے کا ثبوت بھی مانگ سکتے ہیں۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ بیٹے نے باپ کو تحفے دیے اس کے لئے وسائل کہاں سے آئے یہ بھی تو عدالت کو بتایا جائے۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 15نومبر کو قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب اورعدالتی جواب میں قطری خط اور سرمایہ کاری کا نہیں بتایا۔ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا یہ لازمی تھا کہ وزیراعظم اپنے دفاع کا ہر نکتہ پارلیمنٹ میں بیان کرتے؟

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ اصل سوال 12 ملین درہم کا ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ شریف خاندان نے آف شور کمپنیوں کو1993 سے لنک کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر جائیدادیں قطری شہزادے کی ہیں تو پیسے کی منتقلی کا سوال ہی ختم ہو جاتا ہے۔ دوران سماعت نعیم بخاری نے اسحاق ڈار کا منی لانڈرنگ سے متعلق اعترافی بیان پڑھ کر سنایا۔ جسٹس اعجاز افضل نے ہدایت کی کہ اعترافی بیان کی قانونی حیثیت بتانا ہوگی۔