Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ، اٹارنی جنرل درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر معاونت کیلئے پیش

ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ، اٹارنی جنرل درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر معاونت کیلئے پیش
December 8, 2021 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اٹارنی جنرل درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر معاونت کیلئے پیش ہو گئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو  کی تحقیقات سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دیئے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست پر کئی سوالات اٹھا دیئے اور کہا ثاقب نثار کی آڈیو کس مستند سورس سے آئی؟ جن لوگوں کے کیسز ہیں وہ آڈیو عدالت کیوں نہیں لاتے ؟ کیا کوئی آڈیو کی اونر شپ لینے والا ہے؟ عدالت کس کو تحقیقات کیلئے ہدایت دے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ پراکسی جنگ ہے، ایک شخص کیلئے بار بار ویڈیوز آ رہی ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ ہو جاتا ہے اسکی کوئی ویڈیو نہیں آئی۔

اٹارنی جنرل نےمزید کہا کہ پتہ لگنا چائیے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا؟ رقم سے بھرے ہوئے سوٹ کیس کسے جاتے رہے؟ جو لوگ زندہ ہیں سب کا احتساب کر لیتے ہیں۔ ایک وزیراعظم کو مبہم عدالتی حکم پر پھانسی دی گئی۔ جلا وطن کرنے کی سہولت ایک وزیراعظم کو دی جاتی ہے تو بھٹو کو کیوں نہیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک سزا کیخلاف اپیل اس ہائیکورٹ میں چل رہی ہے۔ ایک اپیل کیلئے پوری عدلیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

درخواست گزار صلاح الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ  بیان حلفی کا کیس اسی عدالت میں زیر التوا ہے ۔ آڈیو کا معاملہ بھی قابل سماعت ہو سکتا ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ بیان حلفی کا معاملہ الگ ہے ۔ بیان حلفی دینے والے خود عدالت آئے ہیں۔ دلائل ابھی جاری تھے کہ کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو  کی تحقیقات سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دیئے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست پر کئی سوالات اٹھا دیئے اور کہا ثاقب نثار کی آڈیو کس مستند سورس سے آئی؟ جن لوگوں کے کیسز ہیں وہ آڈیو عدالت کیوں نہیں لاتے ؟ کیا کوئی آڈیو کی اونر شپ لینے والا ہے؟ عدالت کس کو تحقیقات کیلئے ہدایت دے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ پراکسی جنگ ہے، ایک شخص کیلئے بار بار ویڈیوز آ رہی ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ ہو جاتا ہے اسکی کوئی ویڈیو نہیں آئی۔

اٹارنی جنرل نےمزید کہا کہ پتہ لگنا چائیے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا؟ رقم سے بھرے ہوئے سوٹ کیس کسے جاتے رہے؟ جو لوگ زندہ ہیں سب کا احتساب کر لیتے ہیں۔ ایک وزیراعظم کو مبہم عدالتی حکم پر پھانسی دی گئی۔ جلا وطن کرنے کی سہولت ایک وزیراعظم کو دی جاتی ہے تو بھٹو کو کیوں نہیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک سزا کیخلاف اپیل اس ہائیکورٹ میں چل رہی ہے۔ ایک اپیل کیلئے پوری عدلیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

درخواست گزار صلاح الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ  بیان حلفی کا کیس اسی عدالت میں زیر التوا ہے ۔ آڈیو کا معاملہ بھی قابل سماعت ہو سکتا ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ بیان حلفی کا معاملہ الگ ہے ۔ بیان حلفی دینے والے خود عدالت آئے ہیں۔ دلائل ابھی جاری تھے کہ کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔