Monday, October 3, 2022

توہین عدالت کیس ، فردوس عاشق اعوان کو ایک بار پھر معافی نہ ملی

توہین عدالت کیس ، فردوس عاشق اعوان کو ایک بار پھر معافی نہ ملی

اسلام آباد ( 92 نیوز) توہین عدالت کیس میں  غیر مشروط معافی نامہ جمع کرانے کے باوجود فردوس عاشق اعوان کو معافی نہ ملی ،  فردوس عاشق اعوان کی وفاقی وزیر غلام سرور خان سے کیس الگ کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی ۔  اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں کے خلاف توہین عدالت کے کیسز کو یکجا کردیا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ سیاست الگ چیز لیکن اداروں پر عدم اعتماد سےمتعلق بیانات کے نتائج ہوں گے، آپ لوگوں کا سسٹم پر اعتماد ختم کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور اور معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی ۔

درخواستگزار جہانگیر جدون نے دلائل دئیے کہ وفاقی وزیر نے نواز شریف کی رہائی کو ڈیل کا حصہ قرار دیا ، اس بیان سے غلام سرور نے عدالت میں زیر سماعت کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی یہ بھی کہا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں ردو بدل کیا گیا ، پیمرا سے ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کردی ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے معاون خصوصی کو روسٹرم پر طلب کیا ریمارکس دیے کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، میڈیکل بورڈ حکومت نے تشکیل دیا پھر وفاقی وزیر کیسے اسکو جعلی قرار دے سکتے ہیں،مطلب آپ حکومت کو گمراہ کر رہے ہیں۔

عدالت نےریمارکس دیے کہ  سیاست الگ چیز ہے لیکن اس طرح کے بیانات سے لوگوں کا سسٹم  پر اعتماد ختم کررہے ہیں، آپ بتائیں کہ وزیر نے ایسی کوئی بات کی یا نہیں؟ اگر کی ہے یہ بات وزیراعظم کے نوٹس میں لائی جائے گی، جب عدالت میں زیر سماعت کیسزپربات کریں گے تو اس کا اثر تمام سائلین کے کیسز پر آئے گا ۔

معاون خصوصی نے عدالت کو معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ، اور ساتھ ہی اپنے خلاف توہین عدالت کیس میں غیرمشروط معافی نامہ جمع کرادیا ، لیکن پھر بھی معافی نہ ملی۔

عدالت نے وفاقی وزیرغلام سرورخان کو توہین عدالت کا شوکا زنوٹس جاری کردیا ، قرار دیا کہ فردوس عاشق اعوان کا کیس بھی ساتھ سنا جائیگا ، معاون خصوصی نے کیس الگ رکھنے کی استدعا کی تو عدالت نے مسترد کردیاور آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کرلیا ۔

تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ  وفاقی وزیر پر اہم نوعیت کے الزامات سامنے ہیں ، کیونکہ میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پرہی عدالت سے نواز شریف کو ریلیف ملا ، عدالت کے سامنے الارمنگ صورتحال ہے کہ وفاقی کابینہ کے وزرا ڈیل کا تاثر دے رہے ہیں، عدالت نے وفاقی وزیر غلام سرور کو بھی 14 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔