Wednesday, November 30, 2022

تمام جماعتیں متفق ہیں کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو منظور نہیں کیا جاسکتا، فضل الرحمٰن

تمام جماعتیں متفق ہیں کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو منظور نہیں کیا جاسکتا، فضل الرحمٰن
اسلام آباد (92 نیوز) تمام جماعتیں متفق ہیں کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو منظور نہیں کیا جاسکتا، مولانا فضل الرحمٰن کی اپوزیشن کی اے پی سی کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ نئے الیکشن ہمارا حتمی مطالبہ ہے، جس پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں اس پر آپ کو ہمیں داد دینی چاہئے، انتہائی حساس تقرریوں کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا، اجلاس نے نوازشریف اور آصف زرداری کی بیماری کے حوالے سے تشویش کا بھی اظہار کیا اور حکومتی رویے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا جلدازجلد فیصلہ سنایا جائے، حکومتی وزراء نے سی پیک جیسے اہم منصوبے کو متنازعہ بنا دیا ہے جس کی اجلاس میں مذمت کی گئی۔ سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا ناروے میں افسوسناک واقعے کی بھی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ناروے کی حکومت اس حوالے سے مربوط اقدامات اٹھائے۔ مزید بولے کہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے ہماری یہ شکایت رہی کہ اسے بے بس کیا گیا جس کی وجہ سے اتنا بڑا بحران پیدا ہوا۔ ادھربلاول بھٹو بولے کہ عوامی وزیراعظم بنا کر رہیں گے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ نہ ہم موجدہ سلیکٹڈ کو مانتے ہیں اور نہ کسی اور سلیکٹڈ کو مانیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ نئے انتخابات پیپلزپارٹی کا بھی مطالبہ ہے اور لڑنے کے لیے بھی تیار ہے، امید ہے سپریم کورٹ کے سامنے جلد ہمارا کیس لگے گا، سندھ کا کیس پنڈی میں چلا کر قانون کی خلاف ورزی کی گئی، ہماری کوشش ہے کہ اس غلطی کو سدھارا جاسکے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کی 15 مہینوں کی سلیکشن نے ملک کے لیے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ ملک کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے شفاف الیکشن کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت نااہل ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ سب سے حساس ادارے کے سربراہ کی ملازمت میں توسیع کو انہوں نے مذاق بنا دیا، اس حکومت کو رخصت کرکے نئے الیکشن کے ذریعے الیکٹڈ حکومت لانا ناگزیر ہوچکا ہے۔