Monday, October 3, 2022

ترک انتخابات میں حکمران جماعت پارلیمان میں سادہ اکثریت کھو بیٹھی، اے کے پی کو اکتالیس فیصد ووٹ ملے، مخلوط حکومت کی راہ ہموار

ترک انتخابات میں حکمران جماعت پارلیمان میں سادہ اکثریت کھو بیٹھی، اے کے پی کو اکتالیس فیصد ووٹ ملے، مخلوط حکومت کی راہ ہموار
انقرہ (ویب ڈیسک) ترکی کے عام انتخابات میں حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی پارلیمنٹ میں قطعی اکثریت کھو بیٹھی ہے جس کے نتیجے میں اسے مخلوط یا اقلیتی حکومت تشکیل دینا پڑے گی۔ حکمران جماعت کی پارلیمانی اکثریت کم ہونا صدر رجب طیب اردوان کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے جس سے ایک طرف ان کے آئین میں ترمیم کر کے صدارتی نظام حکومت رائج کرنے کے ارادے زمین بوس ہو گئے ہیں تو دوسری طرف پارٹی کو کسی دوسری جماعت کو اقتدار میں شریک کرنا پڑے گا۔ ملک کےاسی صوبوں میں پانچ کروڑ سینتیس لاکھ ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا اور ننانوے فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر اے کے پی کو بیالیس فیصد ووٹ ملے اور اس کی پارلیمان میں نشستیں دو سو ساٹھ تک ہو سکتی ہیں جو دو سو چھہتر کی سادہ اکثریت سے بھی کم ہیں۔ الیکشن میں کرد، لبرل اور سیکولر جماعتوں کو خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔ اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی کو پچیس فیصد، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کو ساڑھے سولہ فیصد جبکہ بائیں بازو کی کرد نواز پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کو بارہ فیصد ووٹ ملے ہیں اور اس کی پارلیمان میں نشستیں پچاس ہو جائیں گی جبکہ ریپبلکن پارٹی کو ایک سوتیس سے زائد پارلیمانی نشستیں مل جائیں گی اس طرح حکمران جماعت کو یا تو کسی کو شریک اقتدار کرنا پڑے گا یا پھر دوبارہ انتخابات کروانے پڑیں گے۔ اردوان جدید ترکی کے مقبول ترین رہنما ہیں لیکن عوام نے ان کا آئین تبدیل کرنے کا خواب چکنا چور کر دیا ہے۔ انتخابات میں دس عیسائی بھی پارلیمنٹ کے رکن بنے ہیں۔ تجزیہ نگار انتخابات کو کردوں کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ایچ ڈی پی کے شریک چئرمین نے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جمہوریت کی فتح ہے۔