Monday, November 29, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

ترکی : بغاوت کے الزام میں گرفتار افراد کیلئے جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی

ترکی : بغاوت کے الزام میں گرفتار افراد کیلئے جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی
August 18, 2016
انقرہ (ویب ڈیسک) ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کی حمایت کے الزام میں گرفتار ہزاروں قیدیوں کی جگہ بنانے کے لیے جیلوں میں پہلے سے موجودہ قیدیوں کی رہائی شروع کردی گئی ہے۔ صدر کو آرمی چیف کے تقررکے وسیع اختیارات کا نیا حکم نامہ جاری اور فتح اللہ گولن پر ترکی میں بغاوت اور صدر کے قتل کی کوشش کی چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ترکی میں جاری ہنگامی حالات کے تحت وزارت قانون نے د و حکم نامے جاری کر دیے ہیں جن کے تحت مزید 2ہزار تین سو ساٹھ پولیس اہلکاروں‘ 100 سے زائد فوجی اہلکاروں اور انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اتھارٹی کے ایک سو 96 اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان افراد پر فتح اللہ گولن کی تحریک سے رابطوں کا الزام ہے۔ حکومت نے فتح اللہ گولن پر ترکی میں بغاوت کی کوشش کی باضابطہ فرد جرم پیش کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فتح اللہ گولن نے حکومت کا تختہ الٹنے‘ آئین کو منسوخ کرنے اور صدر طیب اردگان کے قتل کے لیے مسلح گروپ تشکیل دیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے فتح اللہ گولن کو دو بار عمر قید اور ایک ہزارنو سو سال قید کی درخواست کی ہے۔ اسی دوران ہنگامی حالت کے تحت حاصل اختیارات کے تحت وزارت قانون نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں صدر طیب اردگان کو آرمی چیف کے تقررکے لیے مزید اختیارات دیے گئے ہیں جس کے تحت صدر کسی بھی جنرل کو ملٹری چیف مقرر کر سکے گا۔ ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد سے فوج، پولیس‘ عدلیہ اور دوسرے محکموں کے 35ہزار سے زائد افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں سرکاری ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ فتح اللہ گولن کی تحریک سے رابطوں کے الزام میں ملک میں سیکڑوں تعلیمی اور رفاہی ادارے بھی بند کئے جا چکے ہیں۔